BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ قرارداد، اسرائیل کی مذمت

قومی اسمبلی نے بھی حال میں اسرائیل کے خلاف قرارداد مذمت کی تھی
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے جمعہ کو غزہ پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ایک متفقہ قرار داد منظور کی ہے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے متعلق جنیوا کنوینشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

سینیٹ نے اپنی قرار داد میں اسرائیلی حملوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ یہ قرار داد اقوام متحدہ، او آئی سی اور عرب لیگ کو بھیجی جائے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فی الفور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے خوراک اور ادویات بھیجے۔

قرارداد میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری، باالخصوص امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور فلسطینی عوام کے قانونی و بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ایوان بالا نے اپنی دو صفحات پر مشتمل قرارداد میں آزاد فلسطین کی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایسی ہی ایک قرارداد قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔

جمعہ کو ایوان بالا کے بلائے گئے سیشن کا پہلا دن تھا۔ جبکہ قومی اسمبلی کا سیشن پہلے سے جاری ہے اور جمعہ کو دونوں ایوانوں کی بیک وقت کارروائی جاری رہی۔

قومی اسمبلی میں اراکین کی عدم دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ اجلاس میں کل اراکین کی ایک چوتھائی بھی شریک نہیں ہوئی۔

وقفہ سوالات کے دوران کئی اراکین جن کے سوالات تھے وہ بھی نہیں آئے۔ سوالات کے بیشتر جواب نہیں دیے گئے اور اس کی وجہ جواب تاحال موصول نہ ہونا بتائی گئی۔

وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ تیرہ برس میں ملک کے اندر ایک یونٹ بھی پیدا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق سابقہ حکومت نے واپڈا پر چار سو ارب روپے کا مقروض بنایا۔

ایک موقع پر محنت و افرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں دو لاکھ اسی ہزار افراد کو بیرونی ملک بھیجا گیا جبکہ رواں مالی سال میں تاحال چار لاکھ بیس ہزار کو باہر بھیجا جاچکا ہے اور تیس جون تک یہ تعداد ساڑھے پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کی اسرائیل کو دھمکی
17 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد