ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | مظاہروں میں بھارت کے خلاف بھی بیانات دیے گئے ہیں |
فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے خلاف پاکستان بھر میں جماعت اسلامی سمیت دیگر دینی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے مسجد جامعہ بنوریہ کے باہرمظاہرہ کیا گیا، جس میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کو بھی ’سبق‘ سیکھانے کی بھی بات کہی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما منور حسن کا کہنا تھا کہ فلسطین کے چاروں طرف مسلمان ملک ہیں، اردن ، مصر، شام اور سعودی عرب کے پاس فوجیں اور وسائل بھی ہیں یہ سب ملک اگر اسرائیل کا بائیکاٹ کردیں اور کچھ کرنے اور کرگزرنے کا عزم کریں تو اسرائیل کی یہ مجال نہیں کہ نہتے فسلطینیوں پر اس طرح بم برسائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقتا عرب لیگ ، اسلامی کونسل، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل امریکہ کی گرفت میں ہیں اور اس کے خدمت گذار ہیں، جو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اس سے ڈکٹیشن لیتے ہیں‘۔  | اسرائیلی داداگری  فلسطین کے چاروں طرف مسلمان ملک ہیں، اردن ، مصر، شام اور سعودی عرب کے پاس فوجیں اور وسائل بھی ہیں یہ سب ملک اگر اسرائیل کا بائیکاٹ کردیں اور کچھ کرنے اور کرگذرنے کا عزم کریں تو اسرائیل کی یہ مجال نہیں کہ نہتے فسلطینیوں پر اس طرح بم برسائے  جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما منور حسن |
’پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون ہو رہا ہے، مگر مسلمان حکومتیں خاموش تماشائی ہیں، یہ ہی حال پاکستان کا ہے کشمیر میں مظالم ہو رہے ہیں مگر بھارت سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔‘ منور حسن کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ حکومت کی پکڑ سے باہر کے عناصر ہیں جو یہ سارا کام کر رہے ہیں،’جو کام ریاست کو کرنا چاہیے اور وہ مدتوں تک نہ ہو تو پھر ایسے عناصر ہی یہ کام سر انجام دیتے ہیں۔ صحت، تعلیم اور تحفظ میں ریاست ناکام ہوچکی ہے، ریاست کا یہ فرض ہے کہ جہاد کرے جب وہ نہیں کرتی تو پھر ایسے عناصر جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘ سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ عوام اسرائیل سے لڑنے کے لیے تیار ہیں اگر بھارت نے پاکستان کی طرف دیکھا تو اہلیان کراچی گھر میں نہیں بیٹھیں گے جہاد کریں گے۔ |