قائمہ کمیٹی کے خلاف پٹیشن خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبردیئے جانے کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے خلاف پٹیشن خارج کر دی ہے۔ وفاقی تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین شمشاد بیگ کی جانب سے دائر کردہ درخواست مسترد ہونے سے کمیٹی کی کارروائی روکنے سے متعلق حکم امتناعی بھی ختم ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر کھوکھر کی سربراہی میں قائم بنچ نے جمعے کے روز اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے قبل از وقت رجوع کیا ہے اسے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ، فیڈرل بورڈ کے وکیل آغا طارق اور پٹیشن کی پیروی کرنے والے وکیل راجہ عبدالرحمان کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا۔ بینچ کے دیگر ججوں میں جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس اعجاز یوسف شامل تھے۔ اس فیصلے سے مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ اعلٰی عدلیہ اور پارلیمان کی تعلیمی امور سے متعلق کمیٹی کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس زوار حسین جعفری نے اس درخواست کی ابتدائی سماعت چار دسمبر کو اپنے چیمبر میں کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کا معاملے پر غور نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے وفاقی تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی تھی۔ اُدھر مسلم لیگ نواز نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس زوار حسین جعفری کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے۔ جسٹس زوار حسین جعفری نے تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بیٹی فرح حمید ڈوگر کے اضافی نمبر کے معاملے کی تحقیقات سے روکنے کے بارے میں حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نو ن کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال، جنہوں نے اس تحریک استحقاق پر دستخط کیے، بی بی سی کو بتایا کہ اس تحریک استحقاق میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج نے پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا ایک سپریم ادارہ ہے اور اس کی کارروائی میں مداخلت آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک استحقاق پر اُن کی جماعت کے پندرہ ارکان قومی اسمبلی نے دستخط کیے ہیں۔ | اسی بارے میں ’خاموش رہے تو فیصلہ حق میں‘17 December, 2008 | پاکستان قائمہ کمیٹی: حکم کے باوجود بحث15 December, 2008 | پاکستان ڈوگرغیرآئینی چیف جسٹس نہیں:بار13 December, 2008 | پاکستان فرح ڈوگر، سپیکر اسمبلی سے مطالبہ06 December, 2008 | پاکستان جسٹس ڈوگر کے خلاف درخواست06 December, 2008 | پاکستان ’پارلیمانی کمیٹی تحقیقات روک دے‘04 December, 2008 | پاکستان امتحانی پرچے سِیل کرنے کا حکم 05 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||