BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 February, 2009, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ن لیگ امیدواروں کے نام جاری

نواز لیگ کا اجلاس رائے ونڈ میں ہوا
مسلم لیگ نون نے چار مارچ کو سینیٹ کی پچاس نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔

امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں مسلم لیگ نون کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں کیا جس کی صدارت مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے کی۔

مسلم لیگ نون نے جن امیدواروں کا سینیٹ انتخابات کے لیے نامزد کیا ہے ان میں جماعت کے چئیرمین راجہ ظفر الحق ، مرکزی نائب صدر مشاہد اللہ خان اور سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا شامل ہیں۔

اقبال ظفر جھگڑا ان سینیٹروں میں شامل ہیں جو آئندہ ماہ اپنے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پر ریٹائر ہوجائیں گے۔

پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیْ شہباز شریف نے ذرائع ابلاع کو بتایا کہ پنجاب سے سینیٹ کی نشستوں کے لیے چار امیدواروں کو نامزد کیا گیا ہے ان میں راجہ ظفر الحق، پرویز رشید ، سید ظفر علی شاہ اور مشاہد اللہ خان شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ نون کے بجائے مرکزی جمیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر کو نامزد کیا گیا ہے ۔

مسلم لیگ نون نے پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب کی صدر نجمہ حمید امیدوار ہونگی جبکہ ان کی متبادل امیدوار ذکیہ شاہنواز ہونگی۔

راجہ ظفر الحق سابق فوجی صدر ضیاالحق کے وزیر اطلاعات رہے ہیں

شہباز شریف نے اعلان کیا کہ صوبہ سرحد میں اقبال ظفر جھگڑا اور خواتین کی مخصوص نشست پر سعیدہ الیاس کو مسلم لیگ نون کی طرف سے امیدوار نامزدکیا گیا ہے۔

اس طرح ان بقول کے اسلام آباد کی نشست کے لیے ملک شجاع اور سیدہ مشتاق امیدوار ہونگی۔

مسلم لیگ نون کی طرف سے نامزد کیے گئے امیدواروں میں راجہ ظفر الحق سینیٹ کے قائد ایوان بھی رہ چکے ہیں ۔پرویز رشید وزیر اعلیْ پنجاب کے مشیر ہیں اور نواز شریف حکومت کے خاتمے سے پہلے وہ سینیٹر اور سرکاری ٹی وی چینل کے چیئرمین تھے۔

نامزد امیدوار سید ظفر علی شاہ سابق رکن اسمبلی ہیں اور انہوں نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں وکلا کے بائیکاٹ کی وجہ سے حصہ نہیں لیا تھا۔

مشاہد اللہ خان نواز شریف کی وزارت اعظمی کے دوران ان کے مشیر رہیں ہیں اور ملک شجاع مسلم لیگ اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد بن رہے ہیں اور اس بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعت جیسے پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور عوامی نیشنل پارٹی مشترکہ طور انتخاب میں حصہ لیں گے

مسلم لیگ نون کے آئندہ ماہ چار میں سے تین سینیٹر ریٹائر ہورہے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار غزیز اللہ نے کوئٹہ سے اطلاع دی ہے کہ بلوچستان میں ملک بھر کی طرح سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سرگرمیاں جاری ہیں اور عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی بھی اپنا امیدوار میدان میں اتار رہی ہے۔

کوئٹہ میں بدھ کے روز سے سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں نے کاغذات جمع کرانا شروع کر دیے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحئی کی نیشنل پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کے آزاد اور دیگر اراکین سے رابطے کیے ہیں اور ممکنہ طور پر جماعت کے رہنما میر حاصل بزنجو سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما جان محمد بلیدی کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ صحیح نہیں تھااس لیے اب وہ سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔

بلوچستان اسمبلی میں آزاد اراکین میں سے پانچ کے بارے میں نیشنل پارٹی کے قائدین کا خیال ہے کہ وہ ان کے امیدوار کو ووٹ دیے سکتے ہیں اور اس کے علاوہ مسلم لیگ قائد اعظم سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے بھی نیشنل پارٹی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ بلوچستان میں سینیٹ کے ایک رکن کو کامیابی کے لیے کم سے کم ساڑھے نو ووٹ درکار ہوں گے۔

گزشتہ سال عام انتخابات میں کچھ آزاد اراکین کامیاب ہوئے تھے جن کا وابستگی بلوچ قوم پرست جماعتوں سے رہی ہے جبکہ ایک رکن سردار ثناءاللہ زہری نے نیشنل پارٹی پارلیمینٹرینز کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اس کے علاوہ سینیٹ کے انتخاب کے لیے بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد بن رہے ہیں اور اس بارے میں ایسی اطلاعات ہیں کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعت جیسے پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور عوامی نیشنل پارٹی مشترکہ طور انتخاب میں حصہ لیں گے۔

اس بارے میں جمعیت علما اسلام کے سینیئر وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اس طرح انھیں اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

گزشتہ سال انتخابات میں اگرچہ مسلم لیگ قائد اعظم سب سے بڑی جماعت کے طور پر کامیاب ہوئی لیکن حکومت سازی کے لیے قاف لیگ کے اراکین نے یا تو پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور یا پیپلز پارٹی کی حمایت کی ہے۔

سیاسی جماعتوں کے قایدین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ان کی کوشش ہے کہ ووٹ کی خرد وفروخت نہ ہو بلکہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کامیاب کرا سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد