BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2009, 17:54 GMT 22:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کاغذات منظوری پر اپیل نہیں‘

کنور دلشاد
وہ امیدوار جن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں وہ دادرسی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے روبرو اپیل دائر کرسکتے ہیں
پاکستان کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں کسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے یہ بات اتوار کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے بقول سینیٹ کے انتخابات میں وہ امیدوار جن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں وہ دادرسی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے روبرو اپیل دائر کرسکتے ہیں تاہم کسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل دائر نہیں ہوسکتی۔

خیال رہے پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں امیدواروں کے کاغدات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کی صورت میں اعلیْ عدالت میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

سیکرٹری دلشاد کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی خالی ہونے والی پچاس نشستوں پر چار مارچ کو انتخابات ہونگے جبکہ پانچ مارچ کو چیف الیکشن کمشنر حتمی نتائج کا نوٹیفکیش جاری کریں گے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد ایک سو ہے جبکہ پچاس ارکان اپنی آئینی مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہوئے ہیں۔ان میں چاروں صوبوں سے گیارہ گیارہ، قبائلی علاقوں سے چار اور اسلام آباد سے دو سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے 18 سینیٹرز اس سال ریٹائر ہو رہے ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے سینیٹروں کی تعداد 6، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹروں کی تعداد 5، متحدہ قومی موومنٹ کے 3 جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے 4 سینیٹرز اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

اس سال مارچ میں ریٹائر ہونے والوں میں سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کاملی علی آغا، سابق حکمراں جماعت

سبز، سفید اور گلابی بیلٹ پیپرز
 جنرل نشست کے لیے سفید، خواتین کے لیے گلابی اور ٹیکنوکریٹس اور علماء کی نشست کے لیے سبز رنگ کے بیلٹ پیرز جاری کیے جائیں گے
سکریٹری الیکشن کمیشن
پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کے علاوہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، وزیر سرمایہ کاری وقار احمد خان، اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ، مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، ایم کیو ایم کے بابر غوری ،متحدہ مجلس عمل کے مولانا سمیع الحق اور علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری، بھی اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

ریٹائر ہونے والے میں مشرف کابینہ کے وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا اور وزیر اطلاعات نثار ممین کے علاوہ سات خواتین بھی شامل ہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے پچاس ارکان گیارہ مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ نئے سینیٹر بارہ مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ان نے بتایا کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے پولنگ کے لیے صوبائی اسمبلی کے عمارتوں میں ہونگے اس مقصد کے لیے متعلقہ اسمبلیوں کے سیپکرز کو چھٹیاں لکھ دیں گئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جنرل نشست کے لیے سفید، خواتین کے لیے گلابی اور ٹیکنوکریٹس اور علماء کی نشست کے لیے سبز رنگ کے بیلٹ پیرز جاری کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بتایا کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے ووٹنگ چار مارچ کو صبح چار بجے شروع ہوگی جو بغیر کسی وقفے کے شام چار بجے تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
سینیٹ انتخابات چار مارچ کو
05 February, 2009 | پاکستان
سینیٹ انتخابات کی بھاگ دوڑ
11 January, 2009 | پاکستان
اپنے سینیٹرز کے خلاف ایکشن
03 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد