سینیٹ انتخابات چار مارچ کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں اس سال مارچ میں پچاس نشستوں پر انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت انتخابات کی پولنگ چار مارچ کو ہوگی۔ اس ضمن میں کاغذات نامزدگی 11 سے 13 فروری تک وصول کیے جائیں گے۔ جبکہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل سترہ فروری کو کی جا سکے گی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق کاغذات نامزدگی پر اعتراضات 14 سے 15 فروری کو داخل کروائے جاسکیں گے جن پر فیصلہ انیس فروری کو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکیس فروری تک کاغذات نامزدگی واپس لیے جا سکتے ہیں جبکہ اُمیدواروں کے ناموں کی حتمی فہرست بائیس فروری کو جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کی پولنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی۔ مارچ میں پچاس سینٹرز اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جن میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے اراکین کی تعداد اٹھارہ ہے جن میں سینٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف کامل علی آغا شامل ہیں۔ موجودہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سنیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں جس میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے چھ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ نون کے تین تین جبکہ 7 آزاد ارکان ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق مذکورہ پچاس سینیٹرز اس سال گیارہ مارچ کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے جبکہ منتخب سینیٹ کے ارکان بارہ مارچ کو حلف اُٹھائیں گے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں سے گیارہ گیارہ، قبائلی علاقوں سے چار اور اسلام آباد سے دو سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں صوبہ بلوچستان کو خاصی اہمیت حاصل ہوگی جہاں پر سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی اکثریت ہے۔ لیکن اس جماعت کے اندورنی انتشار کا شکار ہونے کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہے کہ وہاں سے اس جماعت کے اُمیدوار کامیاب ہوں۔ اس صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اُس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے۔ اسلام آباد سے دو سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید اور خواتین کی نشستوں پر طاہرہ لطیف شامل ہیں۔ اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے خالی ہونے والی سینیٹ کی نشستوں پر پولنگ قومی اسمبلی میں ہوگی۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کے سلسلے میں ایک پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا ہے جو ان انتحابات میں حصہ لینے والے اُمیدوارں کے ناموں پر غور کرے گا۔ اس پارلیمانی بورڈ میں مخدوم امین فہیم، فریال تالپور، جہانگیر بدر اور راجہ پرویز اشرف شامل ہیں۔ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جمعہ کواسلام آباد میں ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے آٹھ سینیٹرز صوبہ پنجاب سے اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ اس وقت اس صوبے میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت ہے۔ اور اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون اس سال مارچ میں صوبے سے خالی ہونے والی گیارہ سیٹوں میں سے چھ سے زائد سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ صوبہ سندھ میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے اور اُسے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور وہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی اتحاد میں شامل ہے۔ | اسی بارے میں پچاس سینیٹر آئندہ مارچ ریٹائر ہونگے26 December, 2008 | پاکستان ’ایک مکان میں دو وزراء رہیں‘28 January, 2009 | پاکستان ریٹائر سینیٹروں کا نوٹیفکیشن جاری24 January, 2009 | پاکستان برطانیہ میں پاکستانی قصابوں کی مانگ30 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||