BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 January, 2009, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریٹائر سینیٹروں کا نوٹیفکیشن جاری

پاکستان مسلم لیگ قاف کے 18 سینیٹرز اس سال ریٹائر ہو رہے ہیں
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے اس سال مارچ میں ریٹائر ہونے والے پچاس سینیٹروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

سنیچر کو جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن کے مطابق سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کاملی علی آغا، سینیٹ کی خارجہ امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کے علاوہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ بھی اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے 18 سینیٹرز اس سال ریٹائر ہو رہے ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے سینیٹروں کی تعداد 6، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹروں کی تعداد 5، متحدہ قومی موومنٹ کے 3 جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے 4 سینیٹرز اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

جو سینیٹرز اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں اُن میں اسلام آباد سے عام نشست سے پاکستان مسلم لیگ کے مشاہد حسین سید، خواتین کی سیٹوں پر پاکستان مسلم لیگ قاف کی مسز طاہرہ لطیف شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب سے عام نشستوں پر سردار محمود خان، کامل علی آغا، دلاور عباس، سید امجد عباس، ظفر اقبال چوہدری، ساجد میر، سردار محمد لطیف خان کھوسہ شامل ہیں جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر سعدیہ عباسی، روزینہ عالم خان، ٹیکنوکریٹ اور علماء کی نشستوں پر ڈاکٹر خالد رانجھا اور چوہدری محمد انور بھنڈر شامل ہیں۔

صوبہ سندھ سے عام نشستوں پر محمد امین دادا بھائی، سابق وفاقی وزیر بابر خان غوری، سینیٹ کے چیئرمین اور سابق نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو، محمد عباس کمیلی، آصف جتوئی، محمد علی بروہی اور محمد انور بیگ اور خواتین کی مخصوں نشستوں پر منتخب ہونے والی رخسانہ زبیری اور بی بی یاسمین شاہ شامل ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹس اور علماء کی نشستوں پر منتخب ہونے والے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور سابق وزیر اطلاعات نثار میمن شامل ہیں۔

 سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے اٹھارہ، متحدہ مجلس عمل کے چھ ، پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ، متحدہ قومی موومنٹ کے تین جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے چار سینیٹرز اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

صوبہ سرحد سے عام نشستوں پر آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والوں میں وزیر سرمایہ کاری وقار احمد خان، گلزار احمد خان، متحدہ مجلس عمل کے شجاع الملک، مولانا راحت حسین، صاحبزادہ خالد جان، عوامی نیشنل پارٹی کے
حاجی محمد عدیل اور قومی اسمبلی میں حزب اخلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا شامل ہیں۔ صوبہ سرحد سے خواتین کی مخصوص ہونے والی نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ کی انیسہ زیب طاہر خیلی اور ایم ایم اے کی ڈاکٹر کوثر فردوس شامل ہیں۔
ٹیکنوکریٹس اور علماء کی نشستوں پر ایم ایم اے کے ڈاکٹر محمد سعداور
مولانا سمیع الحق شامل ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ،انجینئر راشد احمد خان، ناصر خان، سید محمد حسین اور عبدالمالک شامل ہیں۔ یہ افراد آزاد حثیت میں منتخب ہوئے تھے۔

صوبہ بلوچستان سے عام نشستوں پر میر ولی محمد بدینی، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری، میر محمد نصیر مینگل، حاجی لیاقت علی بنگلزئی،
سید اکبر شاہ، نواب محمد ایاز خان جوگیزئی اور رضا محمد رضا جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر کلثوم پروین اور آغا پری گل شامل ہیں۔

ٹیکنوکریٹکس اور علماء کی نشستوں پر کامران مرتٰضی اور ممتاز حسین محفوظ شامل ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق چیف الیکشن کمشنر ان سیٹوں پر انتخابات کے شیڈول کا اعلان جلد کریں گے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے 8 سینیٹرز صوبہ پنجاب سے اس سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ اس وقت اس صوبے میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون اس سال مارچ میں صوبے سے خالی ہونے والی گیارہ سیٹوں میں سے آٹھ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

صوبہ سندھ سے سینیٹ کی خالی ہونے والی نشستوں میں سے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سات نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اتحادی جماعتیں ہیں اور وہاں پر مقابلے کا کوئی امکان بظاہر نظر نہیں آرہا۔

صوبہ سرحد سے خالی ہونے والی عام نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی متفقہ اُمیدوار سامنے لائیں گے اور متحدہ مجلس عمل خالی ہونے والی نشتسوں میں سے تمام سیٹیں ہار جائے گی کیونکہ ایم ایم اے نے 18 فروری میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ اس اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن کے اپنے دھڑے کی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

مبصرین کے مطابق صوبہ بلوچستان سے خالی ہونے والی گیارہ نشستوں پر مختلف سیاسی اور علاقائی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کامیابی کا امکان ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد