پشاور: نیٹو کے سپلائی ٹرک تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے ٹرکوں کے ایک اور اڈے پر نامعلوم مسلح افراد نے راکٹوں سے حملہ کیا ہے جس سے دو ٹرک تباہ ہوگئے ہیں۔ تازہ واقعہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر بلال ٹرمینل پر گزشتہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا۔ پشاور پولیس کے ایک اہلکار محمد آفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ درجنوں مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں اچانک بلال ٹرمینل کے قریب پہنچےاور وہاں کھڑی ٹرکوں پر تین راکٹ فائر کیے اور ٹرکوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دو ٹرک جل کر تباہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمینل پر حملے کے بعد پولیس وہاں پہنچ گئی اور کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے دو دن پہلے بھی نیٹو کےلیے رسد لے جانے والے قافلے خیبر ایجنسی میں اس وقت تعطل کے شکار ہوگئے تھے جب نامعلوم افراد نے ایک پل کو تباہ کر کے قافلے کے راستے کو مسدود کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمرنے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اتحادی افواج کے حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ جب تک قبائلی علاقوں میں نیٹو اور امریکی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں وہ اتحادی افواج کے لیے سامان لے جانے والوں پر حملے کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر گزشتہ دو ماہ کے دوران نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والی گاڑیوں کے اڈوں پر مسلح افراد کی طرف سے پانچ حملے کیے جاچکے ہیں جس میں اب تک تین سو سے زائد گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ہے جن پر اتحادی افواج کا جنگ ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔ | اسی بارے میں نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال02 January, 2009 | پاکستان نٹیو رسد پر حملہ، ذمہ داری قبول14 December, 2008 | پاکستان پشاور کےقریب نیٹو ٹرکوں پرمزید حملے13 December, 2008 | پاکستان نیٹورسدپر پھرحملہ، 50 ٹرک راکھ08 December, 2008 | پاکستان ’نیٹو افواج پر حملے بڑھیں گے‘07 December, 2008 | پاکستان پشاور میں نیٹو ٹرکوں پر بڑا حملہ07 December, 2008 | پاکستان نیٹو رسد، سکیورٹی میں قافلہ روانہ17 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||