BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشران کے ورثاء کے لیے امدادی پیکیج

قبائلی علاقوں میں چھ سو سے زائد مِشران مارے گئے
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے قبائلی علاقوں میں جاری شورش کے دوران ’ ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بننے والے چھ سو سے زائد قومی مشران کے ورثاء کو مجموعی طور پر اٹھائیس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان آصف علی زرداری نے سنیچر کو صوبہ سرحد کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے ساڑھے تین سو سے زائد قبائلی مشران کے ایک جرگے سے خطاب کے دوران کیا ہے۔

جرگے میں شامل خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ملک وارث خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آصف علی زرداری نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ حکومتِ پاکستان قبائلی علاقوں پر جاری امریکی میزائل حملوں کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے۔

ان کے بقول انہوں نے اپنے خطاب میں قبائلی علاقوں میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بننے والے چھ سو سے زائد قبائلی مشران کے ورثاء کو مجموعی طور اٹھائیس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ صدرِ پاکستان نے قبائلی علاقوں کے اس سال کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں چار ارب روپے کے اضافہ کا اعلان بھی کیا جس سے یہ رقم آٹھ سے گیارہ ارب تک پہنچ گئی ہے۔

 صدرِ پاکستان نے قبائلی علاقوں کے اس سال کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں چار ارب روپے کے اضافہ کا اعلان بھی کیا جس سے یہ رقم آٹھ سے گیارہ ارب تک پہنچ گئی ہے۔
صدرِ پاکستان نے کہا کہ وہ خود بھی ایک بلوچ قبائل ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہیں کہ قبائلوں کے ساتھ طاقت سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے بات کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ بندوق رکھنے والوں کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن جو لوگ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کے ساتھ طاقت سے نمٹا جائے گا۔

اس سے قبل قبائلی مشران کی نمائندگی پر سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے ملک وارث خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلا لے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز تمام تر طاقت کے استعمال کے باوجود امن نہیں لاسکے ہیں تو پاکستان کی حکومت بھی طاقت کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن قائم نہیں کرسکتی۔

ملک وارث خان نے صدرِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں کی پسماندگی کو دور کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کے کوٹے میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کو بھی شامل کریں اور اس سلسلے میں ہر قبائلی ایجنسی کو پانچ پانچ ہزار ویزے دیدیے جائیں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری جمعہ کو صوبہ سرحد کے سرکاری دور پر پشاور آئے ہیں اور انہوں نے وزیراعلی، گورنر، پیپلز پارٹی، اے این پی کے عہدیداروں، قبائلی مشران اور مختلف وفود سے ملاقاتیں کی ہیں۔

ہنگو میں شریعت
طالبان کے بڑھتے قدم اور حکومت کی مشکلات
’ساتھ دیا تو حملے‘
امریکہ کا ساتھ دینے پر مشرف کو طالبان دھمکی
مولانا فضل اللہ کا مدرسہمعاہدے کے بعد
’مولانا فضل اللہ کے رویے میں لچک آئی ہے۔‘
مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
وزیرستانوزیرستان کے طالبان
قبائلی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی ایک ساتھ
طالبان(فائل فوٹو)طالبان نڈر ہوگئے
پہلے فوجیوں کا اغواء اب سکاؤٹ قلعہ پر دھاوا
طالبانطالبان کا خیرمقدم
ایم ایم اے کی شکست اور طالبان خوش!
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد