ہنگو میں شریعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیت اللہ گروپ کی تحریک طالبان نے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں ایک مقام پر شریعت کے نفاذ کا اعلان کر کے عسکریت پسندوں کے خلاف برسر بیکار عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کو بظاہر مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ اعلان تین دن پہلے شاہو خیل کے علاقے میں مسجدوں سے کیا گیا جو ضلع ہنگواور اورکزئی ایجنسی کا ایک سرحدی گاؤں ہے جہاں حکومت کی عمل داری پہلے ہی کمزور تھی۔ شاہو خیل کے زیادہ تر مقامات علاقہ سرکار کی حدود میں آتے ہیں اور شریعت کے نفاذ کا اعلان بھی بندوبستی یا سیٹلڈ علاقے میں کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقے کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے شاہو خیل ’نوگو ایریا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں پولیس کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس گاؤں سے ہنگو شہر تقریباً دس پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ہنگو کے نزدیک رہنے والے قبائلیوں کےلیے شاہو خیل ایک تجارتی مرکز کا درجہ بھی رکھتا ہے جہاں ہر ہفتے ایک منڈی لگتی ہے جس میں اورکزئی ایجنسی اور آس پاس کے علاقوں سے لوگ شرکت کرنے آتے ہیں۔ یہاں کی مشہور چیز چرس ہے جو پورے علاقے میں انتہائی شہرت کا درجہ رکھتی ہے جسے خریدنے کےلیے لوگ ہنگو ، ٹل اور کوہاٹ کے علاقوں سے شاہو خیل پہنچتے ہیں۔ لیکن طالبان کی طرف سے پابندیوں کے بعد چرس اور منشیات کی دیگر تمام دوکانیں بند ہوگئی ہیں۔
شاہو خیل میں شیعہ اور سنی مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں تاہم یہاں سنی اکثریت میں بتائے جاتے ہیں۔ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اضافے کی وجہ سے شاہو خیل سے زیادہ تر شعیہ آبادی دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکی ہے ۔ اب تو اس علاقے میں گنے چنے شعیہ خاندان رہ گئے ہیں۔ چند دن پہلے یہاں طالبان اور شعیوں کے مابین ایک معمولی سی جھڑپ ہوئی تھی جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ یہ جھڑپ ایک سربریدہ لاش ملنے کے بعد ہوئی تھی۔ بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے سب سے پہلے اپنی سرگرمیوں کا آغاز بھی شاہو خیل ہی سے کیا تھا۔ اس علاقے میں سربریدہ لاشیں ملنے اور سکیورٹی اہلکاروں کے اغواء کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے جس میں کئی افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت کے اعلان کے دوسرے روز طالبان نے شاہو خیل بازار میں جو ہنگو تھانہ کی حدود میں ہی آتا ہے، تین افراد کو سرعام بدفعلی کے الزام میں سزادیتے ہوئے ان کے منہ کالے کیے اور انہیں گدھے پر بٹھا کر گھمایا گیا۔ تاحال حکومت کی طرف سے کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہنگو کے ضلعی پولیس افسر سجاد خان کا کہنا ہے کہ طالبان نے شریعت کے نفاذ کا اعلان ہنگو میں نہیں بلکہ اورکزئی ایجنسی کی حدود میں کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے شاہو خیل میں امن و امان برقرار رکھنے کےلیے نیم ملشیاء دستوں کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا ہے۔
ہنگو فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے صوبہ سرحد کا ایک انتہائی حساس ضلع تصور کیا جاتا ہے۔ اس شہر میں گزشتہ تین سالوں کے دوران ہر محرم کے ماہ میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جس میں کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ طالبان کی جانب سے شریعت کے نفاذ کا اعلان بھی ایسے وقت کیا گیا ہے جب ہنگو کی مقامی انتظامیہ نے محرم الحرام کے ماہ میں ضلع بھر میں فرقہ وارانہ تشدد سے بچنے کےلیے پورے علاقے کو سیل کیا ہوا ہے اور غیر معمولی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ سوات کے بعد صوبہ سرحد کے کسی علاقے میں طالبان کی طرف سے شریعت کا اعلان پہلی مرتبہ کیا جارہا ہے۔ بعض مبصرین کے بقول ہنگو اس وجہ سے بھی طالبان کےلیے اہم ہے کیونکہ اس ضلع کی سرحدیں کرم ایجنسی اور وزیرستان سے بھی ملتی ہیں جہاں عسکریت پسند پہلے ہی سرگرم عمل ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان ضلع ہنگو کے دروازے تک تو پہنچ گئے ہیں اور اگر حکومت کی طرف سے مستقل بنیادوں پر اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو سارا ضلع آسانی سے ان کے کنٹرول میں آسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا06 November, 2008 | پاکستان جرگوں پر حملوں میں اضافہ06 November, 2008 | پاکستان ہنگو،مسجد دھماکے میں پانچ ہلاک22 November, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل: تلاشی کی کارروائی شروع25 November, 2008 | پاکستان ہنگوجھڑپ: ایک ہلاک ایک زخمی15 December, 2008 | پاکستان ہنگو: سربریدہ لاش اور ہلاکتیں18 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||