ہنگو میں طالبان شریعت نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کے بعد بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو کے ایک سرحدی مقام پر بھی شریعت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگادی ہے۔ ہنگو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کے دن مقامی طالبان نے ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے شاہو خیل میں مسجدوں سے شریعت کے نفاذ کے اعلانات کئے اور علاقے میں شرعی فیصلوں کےلیے مراکز بھی قائم کردیئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شاہو خیل میں مقامی طالبان نے تین افراد کو بدفعلی کے الزام میں سزا دیتے ہوئے ان کا منہ کالا کیا اور گدھے پر سوار کر کے انہیں بازاروں میں گھمایا گیا۔
خود کو مقامی طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے سیف اللہ نامی شخص نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ آئندہ کوئی خاتون بغیر برقعے یا حجاب پہنے گھر سے باہر نہیں نکلے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والی خواتون کے شوہر، والد یا بھائی کو سزا دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے نکاح کے حوالے سے اس کے رشتہ داروں کو اپنی تئیں ان کے رشتے طے کرنے کی روایت جس کو مقامی طور پر’ غاگ‘ کہتے ہیں، ختم کردی گئی ہے جس کے بعد لڑکی کو اسلامی قوانین کے مطابق اپنی مرضی سے شادی کی اجازت حاصل ہوگی جبکہ اس کے رشتہ دار اس کے نکاح میں رکاٹ نہیں بن سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سے بھاری کام کروانا جیسے پہاڑوں سے لکڑی کاٹنا وغیرہ پر بھی پابندی ہوگی اور اب وہ گھروں سے باہر نہیں نکلیں گی۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں چرس اور افیون کے کاروبار اور جنگلات کے کاٹنے پر بھی پابندی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے باہمی دشمنیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر پانی لانے اور سڑکوں پر چلنے پر جو پابندیاں لگائی ہیں وہ اب ختم تصور ہوگی اور آئندہ ایسی پابندی لگانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے شرعی فیصلوں کے لیے دو کمانڈر مقرر کردیئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے طالبان نے اورکزئی ایجنسی کے چند علاقوں میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ شاہو خیل اورکزئی اور ہنگو کا ایک سرحدی علاقہ ہے۔ اس علاقے سے گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی سربریدہ لاشیں ملی ہیں اور متعدد افراد کو اغواء بھی کیا جاچکا ہے۔ دریں اثناء ہنگو میں مقامی انتظامیہ نے محرم الحرام کی مناسبت سے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کےلیے شہر کے مختلف علاقوں میں فوج اور نیم ملیشاء دستوں کو بڑی تعداد میں تعینات کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے پچاس فیصد تک لوگ نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر تاجروں نے ممکنہ فسادات سے بچنے کےلیے دکانوں سے سارا سامان نکال کر گھروں اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔ ہنگو کے ضلعی پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے شاہو خیل میں امن و امان برقرار رکھنے کےلیے فوج اور نیم ملیشاء دستوں کو بھاری تعداد میں تعینات کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے شریعت کے نفاذ کا اعلان اورکزئی ایجنسی کی حدود میں کیا ہے جبکہ ہنگو کے تمام علاقوں میں حکومتی عملداری برقرار ہے۔ واضح رہے کہ اورکزئی ایجنسی اور ہنگو کا علاقہ گزشتہ تین سالوں کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تقریباً تین سال قبل ہنگو میں یوم عاشورہ کے موقعہ پر ایک خودکش حملے کے بعد ہر سال اس شہر میں محرم کے ماہ میں فرقہ ورانہ فسادات ہوتے رہے ہیں جن میں درجنوں انسانی جانیں ضیاع ہوچکی ہیں۔ | اسی بارے میں ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا06 November, 2008 | پاکستان جرگوں پر حملوں میں اضافہ06 November, 2008 | پاکستان ہنگو،مسجد دھماکے میں پانچ ہلاک22 November, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل: تلاشی کی کارروائی شروع25 November, 2008 | پاکستان ہنگوجھڑپ: ایک ہلاک ایک زخمی15 December, 2008 | پاکستان ہنگو: سربریدہ لاش اور ہلاکتیں18 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||