BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2008, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگوجھڑپ: ایک ہلاک ایک زخمی

ہنگو پولیس
ہنگو ضلع میں اس سے قبل سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے کرم ایجنسی سے پشاور جانے والی ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ مسلح افراد نے گاڑی میں سوار تین دوسرے افراد کو بندوق کی نوک پر اغواء کرلیا ہے۔

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح ہنگو کے علاقے بڑا عباس خیل میں ٹل پشاور روڈ پر پیش آیا۔ ہنگو تھانہ کے ایک پولیس اہلکار نیک نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ علی زئی کرم ایجنسی کے چند افراد ایک گاڑی میں پشاور جا رہے تھے کہ ٹل سڑک پر نامعلوم مسلح افراد نےگاڑی پر فائرنگ کردی۔

 گزشتہ چند دنوں سے ہنگو اور اس کے ملحق قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں قتل اور اغواء کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

انہوں نے کہا کہ مسلح افراد بعد میں گاڑی میں موجود دیگر تین افراد کو بندوق کی نوک پر اغواء کر کے اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لےگئے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ایک فرقہ سے بتایا جارہا ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے ہنگو اور اس کے ملحق قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں قتل اور اغواء کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دو دن قبل ہنگو کی تحصیل ٹل میں بھی رات کے وقت تقریباً تین سو کے قریب مسلح افراد اچانک ٹل بازار میں داخل ہوئے اور وہاں موجود بیس کے قریب سی ڈیز کی دوکانوں کو آگ لگادی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ مسلح افراد نے سی ڈیز اور فلمیں فروخت کرنے والی دوکانوں کے تالے توڑ کر اس میں موجود سامان کو نذرآتش کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افراد دو گھنٹے تک بازار میں توڑ پھوڑ کرتے رہے جبکہ اس دوران پولیس تھانہ پر بھی دو راکٹ کے گولے داغے گئے ۔ تاہم بعد میں ٹل فوجی چھاؤنی سے فائرنگ کے بعد مسلح افراد علاقہ چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی سمت چلے گئے۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل اورکزئی ایجنسی میں تحریک طالبان کے اہم کمانڈر حکیم اللہ محسود نے پشاور کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں سی ڈیز سنٹروں پر جاری حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں
حکومت کے بعد طالبان کے در پر
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد