خِیبر: ایک اور پل تباہ، نیٹو رسد متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے پشاور طورخم مرکزی شاہراہ پر ایک اور پل کو دھماکے سے تباہ کردیا ہے جس کی وجہ سے نیٹو سپلائی ایک بار پھر معطل ہوگئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متبادل راستے سے ٹریفک بحال کرنے کوششیں شروع کی ہے۔ گزشتہ منگل کو بھی قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے پشاور طورخم مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے تباہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی روک دیا گیاتھا۔ مقامی انتظامیہ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو صبح چھ بجے تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے ٹی ڈی بازار کے قریب نامعلوم شدت پسندوں نے ایک چھوٹے پل کو دھماکے سے تباہ کیا ہے۔انہوں نے کہا پل کے اڑائے جانے کے بعد متبادل راستے پر کام شروع ہو گیا ہے اور جلد متبادل راستے پر ٹریفک کو بحال کر دیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی معطل ہوگیا ہے۔ اہلکار نے امید ظاہر کی کہ متبادل راستے کھل جانے کے بعد نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی افغانستان کے لیے روانہ کردیا جائےگا۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے قریبی چند گھروں اور ایک ٹرک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس سے قبل منگل کو خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں علی مسجد کے قریب نامعلوم افراد نے پشاور طورخم کی مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔ حکام کے مطابق دھماکے کے بعد سیمنٹ سے بھرا ہوا ایک ٹرک بھی تباہ شدہ پل سے گر گیا تھا۔اس دھماکے میں انگریز دور کے بنے ہوئے لوہے کے پل کو تباہ کیا تھا جس کی مرمت کرنا جلد ممکن نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متبادل راستے پر عارضی طور پر ٹریفک کو بحال کیا ہے۔اس وقت بھی افغانستان میں موجود نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ بھی روک دیاگیا تھا اور مقامی ٹریفک بھی بند کر دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی نیٹو کےلیے رسد لے جانے والے قافلے خیبر ایجنسی میں کشیدہ حالات کی وجہ سے کئی بار خلل کا شکار ہوچکے ہیں لیکن یہ دوسری دفعہ ہے کہ کسی پل کو تباہ کر کے قافلے کے راستے کو مسدود کر دیا گیا ہو۔ اس واقعہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمرنے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اتحادی افواج کے حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ جب تک قبائلی علاقوں میں نیٹو اور امریکی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں وہ اتحادی افواج کے لیے سامان لے جانے والوں پر حملے کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر گزشتہ دو ماہ کے دوران نیٹو افواج کے لیے رسد لے جانے والی گاڑیوں کے اڈوں پر مسلح افراد کی طرف سے پانچ حملے کیے جاچکے ہیں جس میں اب تک تین سو سے زائد گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ہے جن پر اتحادی افواج کا جنگ ساز و سامان بھی لدا ہوا تھا۔ | اسی بارے میں نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال02 January, 2009 | پاکستان نٹیو رسد پر حملہ، ذمہ داری قبول14 December, 2008 | پاکستان پشاور کےقریب نیٹو ٹرکوں پرمزید حملے13 December, 2008 | پاکستان نیٹورسدپر پھرحملہ، 50 ٹرک راکھ08 December, 2008 | پاکستان ’نیٹو افواج پر حملے بڑھیں گے‘07 December, 2008 | پاکستان پشاور میں نیٹو ٹرکوں پر بڑا حملہ07 December, 2008 | پاکستان نیٹو رسد، سکیورٹی میں قافلہ روانہ17 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||