وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | اس حکومت نے گزشتہ ادوار کے برعکس کسی چینل کی نشریاتی معطلی، اخباری ڈکلیریشن کی منسوخی، صحافیوں کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے یا عدالتی چارہ جوئی یا قاتلانہ حملوں کا روپ اختیار نہیں کیا ہے |
پاکستانی انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ میں پیر کے روز حکومت اور میڈیا میں کشیدگی کے تعلق سے دو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ پہلی رپورٹ رحیم اللہ یوسف زئی کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پندرہ جنوری کو سرحد چیمبر آف کامرس کے وفد نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ان سے صوبہ سرحد میں دہشت گردی کے سبب مفلوج معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے مسئلے پر بات چیت کی۔ وفد کے کچھ اراکین کے بقول صدر زرداری نے یہ کہا کہ صحافی حضرات واقعات کو بڑھا چڑھا کے غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ اور یہ کام کرنے والے صحافی دہشت گردوں سے بھی بڑے دہشت گرد ہیں۔ میڈیا کو حساس معاملات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے محتاط ہونا چاہیئے۔  | حکومتی ناخوشی  حکومت کی یہ ناخوشی ابھی محض خبروں کی حد تک ہے۔ اس نے گزشتہ ادوار کے برعکس کسی چینل کی نشریاتی معطلی، اخباری ڈکلیریشن کی منسوخی، صحافیوں کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے یا عدالتی چارہ جوئی یا قاتلانہ حملوں کا روپ اختیار نہیں کیا ہے  |
رپورٹ کے مطابق صدر کے اس تبصرے کی تصدیق پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے بھی اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کی ہے۔ جبکہ صدر سے قربت رکھنے والی ایک اور شخصیت نے کہا ہے کہ صدر ایسی بات نہیں کرسکتے اور وہ صحافیوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اسی اخبار میں نامہ نگار رؤف کلاسرا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی راولپنڈی کے کچھ عہدیداروں سے ملاقات کے دوران صدر زرداری نے نہ صرف نواز شریف کے تازہ رویے پر تنقید کی بلکہ یہ بھی کہا کہ میڈیا پیپلز پارٹی کی نہ صرف نظریاتی بنیادوں پر مخالفت کر رہا ہے بلکہ حکومت کو بھی بلاجواز نشانہ بھی بنا رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دونوں اخباری رپورٹوں میں سوائے نامہ نگاروں کے کوئی نام نہیں ہے اور دونوں خبریں ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی ہیں۔ حتٰی کہ صدر کا دفاع کرنے والے ذریعے کو بھی بے شناخت رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ صدر زرداری نے کس موڈ اور سیاق و سباق میں یہ باتیں کی ہیں، اگر کی ہیں۔  | گھر کی بات  گمنام ذرائع کی مدد سے شائع ہونے والی خبروں میں صدر زرداری اس شخص کی طرح نظر آرہے ہیں جس نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ تمہارے ساتھ زندگی گزارنے سے تو موت بہتر ہے۔ اچانک ایک آدمی نمودار ہوا۔ شوہر نے پوچھا تم کون ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ میں ملک الموت (میڈیا) ہوں اور تمہاری خواہش پوری کرنے آیا ہوں۔ شوہر نے ملک الموت سے کہا ’اب کیا بندہ اپنےگھر میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا‘  |
یہ تاثر کسی حد تک میڈیا میں ضرور موجود ہے کہ جنابِ صدر جب بولنے پر آتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں۔ اور اگر انہوں نے صحافیوں کو دہشت گردوں سے بڑے دہشت گرد کہا بھی ہے تو گمنام ذرائع کی مدد سے شائع ہونے والی خبروں میں صدر زرداری اس شخص کی طرح نظر آرہے ہیں جس نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ تمہارے ساتھ زندگی گزارنے سے تو موت بہتر ہے۔ اچانک ایک آدمی نمودار ہوا۔ شوہر نے پوچھا تم کون ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ میں ملک الموت (میڈیا) ہوں اور تمہاری خواہش پوری کرنے آیا ہوں۔ شوہر نے ملک الموت سے کہا ’اب کیا بندہ اپنےگھر میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا۔‘ یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ میڈیا نے ممبئی دھماکوں کے بعد جس طرح حکومت کی ڈانواڈول پالیسی کے لتے لیے ہیں۔ یا اس کی کمزور اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں عام آدمی کی بڑھتی ہوئی مشکلات پر جس نوعیت کی تنقید ہورہی ہے۔ اور گزشتہ دنوں سے صدر اور وزیرِ اعظم میں انتظامی کھچاؤ کا جو خبری تاثر مل رہا ہے۔ اس کے سبب صدر اور ان کے رفقا میڈیا سے خاصے ناخوش ہیں۔ لیکن حکومت کی یہ ناخوشی ابھی محض خبروں کی حد تک ہے۔ اس نے گزشتہ ادوار کے برعکس کسی چینل کی نشریاتی معطلی، اخباری ڈکلیریشن کی منسوخی، صحافیوں کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے یا عدالتی چارہ جوئی یا قاتلانہ حملوں کا روپ اختیار نہیں کیا ہے۔ صحافت اور حکومت کے تعلقات میں اگلا نازک موڑ سینیٹ کے انتخابات اور سترہویں ترمیم کے خاتمے کی بحث کی شکل میں آرہا ہے۔ اگلے دو ماہ میں معلوم ہوجائے گا کہ حکومت کا میڈیا کے بارے میں عملی رویہ کیا شکل اختیار کرتا ہے۔ فی الحال اس بارے میں کوئی مفروضاتی تبصرہ قبل از مرگ واویلا ہوگا۔ |