BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بار: شام کی عدالتوں کی مخالفت

شام کی عدالتوں کے قیام سے وکلاء پر دباؤ پڑے گا
پاکستان بار کونسل نے حکومت کی طرف سے شام کی عدالتیں شروع کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام کو ہی مزید مضبوط بنایا جائے اور ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان بار کونسل کا اجلاس سنیچر کو بار کونسل کے نائب صدر حاجی سید الرحمن کی صدارت میں ہوا جس میں شام کی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی سید الرحمان نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے وکلاء پر دباؤ ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان بار کونسل کے اس فیصلے کو وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ موجودہ سول عدالتوں میں تعینات ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور عدالتی عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بار کونسل حکومت کو کسی اقدام سے روک تو نہیں سکتی البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے توسط سے حکومت پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ شام کی عدالتوں کا منصوبہ ترک کر دے۔

واضح رہے کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی حکومتوں میں شام کی عدالتیں لگائی جائیں گی جو آئندہ ماہ کام شروع کردیں گی جس سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو جلدی نمٹانے میں مدد ملے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شام کی عدالتوں کے لیے جج وکلاء سے ہی بھرتی کیے جائیں گے، اس کے علاوہ غریب ملزموں کو امداد فراہم کرنے کا ادارہ قائم کیا جائے گا جس کی مالی معاونت وفاقی حکومت کرے گی۔

اجلاس میں پاکستان بار کونسل کی ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے علاوہ بار کونسل کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی احتجاجی مظاہرہ کا اعلان نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں سوات میں لڑکیوں کے سکول جلانے کی مذمت کی گئی اور حکومت سے کہا گیا کہ وہ اس علاقے میں اپنی عملداری قائم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اگر بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو وکلاء برادری پاکستانی فوج اور عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

اسی بارے میں
وکلاء گروپ بندی کا شکار
09 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد