’تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کی جانب سے جاری ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیش رفت کس نوعیت کی ہے۔ ادھر وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت سے موصول ہونے والی معلومات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک تحریری بیان میں تقریبا وہی باتیں کی گئی ہیں جو ایک روز قبل وزارت خارجہ کے تفصیلی بیان میں شامل تھیں۔ وزارت خارجہ نے منگل کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی جانب سے پاکستانی سرکاری ایجنسی کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کے جواب میں تفصیلی ردعمل ظاہر کیا تھا۔ بیان میں بھارت پر پاکستان کے خلاف پروپگینڈا جنگ شروع کرنے کی الزام عائد کیا تھا۔ تاہم بدھ کے بیان میں وزیر اعظم نے حکومت پاکستان کی جانب سے از خود شروع کی گئی تحقیقات میں پیش رفت کی بات کی ہے مگر اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے عبوری نوعیت کی تحقیقات کی کچھ معلومات فراہم کی ہیں۔ البتہ یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس عمل کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ تمام حقائق بےنقاب ہوسکیں اور اس بہیمانہ جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جاسکے۔ وزیرِ اعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اب تک نہ صرف تحقیقات میں تعاون سے انکار کیا ہے بلکہ میڈیا اور سفارتی سطحوں پر پاکستان کے خلاف ایک مہم شروع کر دی ہے۔ ’یہ کسی بھی سنجیدہ اور بامقصد تحقیقات کے خلاف ہے اور جنوبی ایشیا میں غیرضروری طور پر کشیدگی بڑھانا ہے۔‘ وزیر اعظم نے بیان میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی بھارت سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی خواہش دوہرائی۔ ’میں من موہن سنگھ کی ذاتی طور پر عزت کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ جنوبی ایشیا کے عوام کے امن، سلامتی اور ترقی کی خاطر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔‘ ادھر وزارت خارجہ کی جانب سے آج جاری تازہ بیان میں ترجمان نے بتایا کہ بھارت سے موصول معلومات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان قانونی طور پر ٹھوث ثبوت حاصل کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو گزشتہ دنوں ممبئی حملوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے بعد سے تمام نظریں باقاعدہ پاکستانی ردعمل پر لگی ہیں۔ تاہم ایک روز قبل وزیر مملکت برائے خارجہ امور ملک عماد خان نے ابتدائی ردعمل میں ان معلومات کو ناکافی قرار دیا تھا۔ |
اسی بارے میں دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے‘03 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||