BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2009, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنگ تباہی کا راستہ ہے‘

لائن آف کنٹرول
لائن آف کنٹرول کے قریبی انڈیا کے اگلے مورچے
پاکستان کی مختلف سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں مل کر جنگجوئی اور انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی بنائیں۔

ایک درجن سے زائد سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے یہ مطالبہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور ایچ آر سی پی کے ڈائریکٹر اور ممتاز دانشور آئی اے رحمان نے پریس کانفرنس میں کیا۔اس موقع پر مختلف سول سوسائٹی کی تنظموں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔

آئی اے رحمان نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ جنگ پاکستان اور بھارت کے عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ جنگ تباہی کا راستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ملکوں کو چاہیے کہ امن قائم کریں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک دوسرے کی سلامتی اور سرحدوں کا احترام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے بنیادی مسائل کوحل کرنے کی طرف توجہ دیں کیونکہ بقول ان کے جب عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں تو اس سے ملک بھی مضبوط ہوتا ہے۔

دہشت گردی سب کا مسئلہ
News image
 دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے لہذا پاکستان اور بھارت دونوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہ بات قابل افسوس ہے کہ دونوں ملکوں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور ہوگئے اور جنگ کے دہانے پر آگئے ہیں
آئی اے رحمان

آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے لہذا پاکستان اور بھارت دونوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ان کے بقول یہ بات قابل افسوس ہے کہ دونوں ملکوں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور ہوگئے اور جنگ کے دہانے پر آگئے ہیں۔

انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس صورت حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اگر ہندوستان جنگی جنوں اور انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے تو اس کے راستے پر نہ چلا جائے۔

آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دونوں ملکوں میں جو کشیدگی ہے اس میں کمی آئی ہے لیکن اس کمی پر مطمئن نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ابھی خطرات موجود ہیں ۔

انہوں نے صوبہ سرحد میں لوگوں کی جانوں کے ضیاع، سکولوں کی بندش اور بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی پر افسوس اظہار کیا اور کہا کہ شہریوں کا تحفظ کرنا حکومت کا فرض ہے لیکن حکومت کی جنگجو تنظیموں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف فوج یا ہتھیاروں سے حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے لیے عوام کی تائید حاصل ہونی چاہیئے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ عام آدمی اپنے حالات سے بہت زیادہ تنگ ہے اس لیے وہ کشیدگی نہیں چاہتا ہے جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا فائدہ جنگ کے ساتھ ہے کیونکہ ان کی اقتصادیات جنگ سے منسلک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستانی سیاست دانوں سےملاقاتیں کی جا رہی ہیں اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے لیے بھی وقت مانگا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیےفیصلہ کیا گیا ہے کہ سول سوسائٹی کے ارکان ٹولیوں کی شکل میں شہروں میں جائیں گے۔

اسی بارے میں
رسد معطل، فوجی آپریشن شروع
30 December, 2008 | پاکستان
جاسوسی کے الزام میں دو قتل
28 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد