BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 05:09 GMT 10:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیرونی عناصر کی کارروائیوں کا خطرہ

ملتان
آئی جی شوکت جاوید کا دعویٰ تھا کہ پنجاب پولیس محرم کے دوران مؤثر سکیورٹی کے لیے پوری طرح تیار ہے
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اس سال اندرونی مذہبی فرقہ واریت کی بجائے بیرونی عناصر کی جانب سے محرم کے دوران کشیدگی پھیلانے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

منگل کو جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں محرم کی سکیورٹی کے حوالے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزیر برائے مذہبی امور احسان الدین قریشی، صوبائی وزیرِ محنت و افرادی قوت محمد اشرف سوہنا، پنجاب پولیس کے سربراہ شوکت جاوید، وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری اور چیئرمین متحدہ علماء بورڈ صاحبزادہ فضل کریم سمیت علاقے کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور سرکاری عہدایداروں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزراء اور مذہبی علماء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مذہبی فرقہ واریت کا زور ٹوٹ گیا ہے تاہم دہشت گردی میں لپٹے ہوئے موجودہ حالات میں بیرونی شر پسند عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے محرم میں سکیورٹی کی نازک صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور محرم کے جلوسوں اور محفلوں پر حملہ کر کے ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے سکتے ہیں۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس شوکت جاوید نے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی دونوں قسم کے خطرات سے دو چار ہے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں مذہبی علماء کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحمل اور بھائی چارے کا پرچار کریں تاکہ محرم کے دوران فرقہ واریت پروان نہ چڑھے۔

انہوں نے بتایا کہ محرم میں امنِ عامہ کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایات پر ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت ہر ڈویژن میں دو صوبائی وزیر سکیورٹی کے امور کی دیکھ بھال کریں گے۔ کسی غیر متوقع صورتحال میں رابطے کے لیے ایک کنٹرول روم بھی چوبیس گھنٹے الرٹ پر ہو گا۔

آئی جی شوکت جاوید کا دعویٰ تھا کہ پنجاب پولیس محرم کے دوران مؤثر سکیورٹی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

اگرچہ اس اجلاس میں بیرونی شر پسند عناصر کے پس منظر میں کسی ملک کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا لیکن ممبئی سانحے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کی روشنی میں یہ عندیہ ملتا ہے کہ دو ہزار نو کے محرم میں ناصرف اندرونی بلکہ بیرونی خطرات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی کی حکمتِ عملی طے کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد