رسد معطل، فوجی آپریشن شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسند اور جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے جس میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ آپریشن کے آغاز سے قبل نہ صرف افغانستان میں سرگرم امریکی و نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی روک دی گئی ہے بلکہ طورخم میں پاک افغان سرحد کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق منگل کو سکیورٹی فورسز نے تحصیل جمرود کے علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے سے نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنگی ہیلی کاپٹروں نے غنڈی، شاہ کس، جبہ اور کدم کے علاقوں پر شدید شیلنگ کی جبکہ توپ خانے کا بھی استعمال کیا گیا جس میں چند گولے گھروں پر لگنے سے چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ خیبر ایجنسی کے ایڈمنسٹریٹر طارق حیات خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن کی وجہ سے نہ صرف پاک افغان شاہراہ بند ہے بلکہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی فراہمی بھی معطل کردی گئی ہے جبکہ پاک افغان سرحد طورخم بھی بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے خیبرایجنسی میں شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں کے اثر رسوخ میں اضافہ ہورہا تھا اور اغواء برائے تاؤان کی وارداتیں بھی انتہا کو پہنچ چکی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آپریشن شروع کرنے سے پہلے تمام قبیلوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ علاقائی ذمہ داری کے تحت اپنے اپنے علاقوں سے شر پسند عناصر کو نکال دیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں لیکن قبائلی عمائدین اس میں ناکام رہے اس لیے مجبوراً کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہی گی جب تک علاقے سے جرائم پیشہ گروہوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پاک افغان شاہراہ کو محفوظ نہیں بنایا جاتا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے تحصیل جمرود میں کرفیو نافذ ہے اور لوگوں گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے غنڈی اور ولی بابا کے علاقوں میں شدت پسندوں تنظیموں کے دو مراکز پر قبضہ کرلیا ہے۔ تاحال عسکریت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یہ آپریشن ایسے وقت شروع کیا گیا ہے جب چند روز قبل فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ کا قبائلی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ ان ذرائع نے یہ بھی کہا تھا اسی بنیاد پر خیبر ایجنسی میں متوقع فوجی آپریشن کو بھی مؤخر کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلح شدت پسندوں نے بارہا نیٹو کے لیے ساز و سامان اور اشیائے خوردونوش لے جانے والے ٹرکوں پر حملے کیے اور پشاور میں سامان سے بھرے کنٹینروں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا ۔ چند دن قبل شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے پہلی مرتبہ خیبرایجنسی میں نیٹو کے ایک کنٹینر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ | اسی بارے میں پشاور میں نیٹورسد پر پھرحملہ11 December, 2008 | پاکستان پشاور کےقریب نیٹو ٹرکوں پرمزید حملے13 December, 2008 | پاکستان نیٹو قافلہ روانہ، سکیورٹی سخت15 December, 2008 | پاکستان نیٹو گاڑیوں پر حملے: چار ہلاک20 December, 2008 | پاکستان خیبر جرگے میں تصادم آٹھ ہلاک22 December, 2008 | پاکستان نیٹو کنٹینر پر حملے کے ذمہ داری26 December, 2008 | پاکستان قبائلی علاقوں میں کشیدگی کے بارہ ماہ26 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||