قاضی کا قیادت چھوڑنے کا عندیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نےاعلان کیا ہے کہ وہ جماعت کے امیر کے لیے ہونے والے انتخاب میں امیدوار نہیں ہیں۔ یہ اعلان انہوں نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً بائیس برس تک جماعت اسلامی کے امیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے ہیں لیکن اب ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ جماعت اسلامی کے امیر کا انتخاب اس سال اپریل ہورہا ہے جس میں ملک بھر سے لگ بھگ تئیس ہزار ارکان نئے امیر کا انتخاب کریں گے۔ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے جماعت کی شوریٰ سے درخواست کی ہے کہ ان کا نام انتخاب کے لیے تجویز نہ کیا جائے۔ان کے بقول ماضی میں سید ابو الاعلیْ مودودی اور میاں طیفل نے جماعت کی امارات کے انتخاب کے لیے معذرت کی تھی جس کو مان لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ مفید ہوگا کہ جماعت کی امارات کی ذمہ داری کوئی اور سنبھالے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کے عہدے پر ہر پانچ برس کے بعد انتخاب ہوتا ہے اور انتخاب کے لیے تین نام تجویز کیے جاتے ہیں جس کے بعد ارکان جماعت اسلامی ووٹنگ کے ذریعے ان تین ناموں سے امیر کا انتخاب کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی قیامِ پاکستان سے پہلے چھبیس اگست انیس سو اکتالیس کو وجود میں آئی تھی۔جماعت اسلامی کے قیام سے لے کر اب تک تین امیر منتخب ہوئے ہیں جن میں سید ابو الاعلیْ مودودی، میاں محمد طیفل اور قاضی حسین احمد شامل ہیں۔ جماعت کے بانی امیرمودودی تھے جو انیس سو بہتر تک امیر کے عہدے پر فائز رہے اور ان کے بعد ان کی جگہ میاں طیفل کو جماعت کا نیا امیر چن لیا گیا تھا جو سنہ انیس سو ستاسی تک امیر جماعت اسلامی رہے۔ میاں طیفل کے بعد قاضی حسین احمد کو جماعت کا نیا امیر منتخب کیا گیا ۔سنہ انیس سو ترانوے میں جماعت اسلامی کی عام انتخابات میں شکست کی وجہ سے قاضی حسین احمد نے انیس سو چورانوے میں اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے تاہم امیر کے لیے ہونے والے چناؤ میں انہیں دوبارہ امیر منتخب کرلیا گیا۔ موجودہ معیاد کے لیے قاضی حسین احمد کا مقابلہ سید منور حسن اور لیاقت بلوچ سے ہوا تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے تھے۔ قاضی حسین احمد کی امارات میں جماعت اسلامی نے سنہ ستانوے اور سنہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جبکہ اٹھاسی اور نوے کے انتخابات میں آٹھ نشستیں حاصل کیں۔ سنہ انیس سو ترانوے کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو صرف تین نسشتیں ملیں۔ | اسی بارے میں نیٹو رسد کے خلاف ریلی18 December, 2008 | پاکستان ’فوجی آپریشن بند کریں ورنہ‘19 November, 2008 | پاکستان ’قبائلی علیحدگی پر مجبور ہونگے‘26 October, 2008 | پاکستان جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ شروع07 October, 2008 | پاکستان ’تشدد کے پیچھے صدر اور اتحادی‘09 April, 2008 | پاکستان غیر فوجی حکومت ضروری ہے: قاضی09 February, 2008 | پاکستان انتخابات سے دور رہیں: قاضی 12 December, 2007 | پاکستان ایم ایم اے کا سیاسی اتحاد ختم11 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||