BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2008, 18:35 GMT 23:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحدی علاقوں میں لوگ پریشان

سندھ کے سرحدی علاقے پچھلی جنگوں میں متاثر ہوئے تھے
ممبئی کے حملوں کے بعد اگرچہ ہندوستان اور پاکستان دونوں حکومتیں یہ کہتی رہی ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتیں لیکن اس کے باوجود سرحدوں پر غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاعات ہیں۔

اس پس منظر میں سندھ کے صحرائی سرحدی علاقے کے باسیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

سندھ کے تین اضلاع تھرپارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ کی سرحدیں بھارتی ریاستوں گجرات اور راجستھان سے ملتی ہیں۔انیس سو پینسٹھ کی جنگ کا سبب بننے والا علاقہ رن آف کچھ بھی تھرپارکر سے ہی ملحقہ ہے، پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی دونوں جنگوں میں یہ علاقہ متاثر ہوچکا ہے ۔

کارگل پر کشیدگی کے بعد جب دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے آگئیں تھیں تو اس وقت بھی تھرپارکر کے سرحدی علاقوں سے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ فی الحال نقل مکانی تو نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی لوگوں کو حکام نے اس بارے میں کوئی ہدایت جاری کی ہے مگر ایک ماہ سے جاری سرد جنگ کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔

تحصیل چھاچھرو کے سرحدی گاؤں کیتاری کے رہائشی عبدالجبار کا کہنا ہے کہ لوگ پریشان ہیں۔

’ایسی صورتحال ہے جیسے کارگل کے وقت تھی، بڑی تعداد میں اہلکار آئے ہیں اور وہ مورچے بنا رہے ہیں، اپنے کام سے لگے ہوئے ہیں۔‘

ان کے مطابق لوگوں میں مایوسی اور پریشانی ہے کہ کہیں جنگ نہ چھڑ جائے۔

تقسیم کے بعد ان سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی نہیں ہوئی مگر انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد سرحد کے دونوں اطراف سے لوگ آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

تھر اور عمرکوٹ میں اس وقت بھی ہندؤں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جن میں کھوکراپار سرحد کے گاوں نوہیوں کے رتن سنگھ بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں دو تین دن افراتفری تھی مگر اب صورتحال قدرے بہتر ہے۔ ان کے مطابق ’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں امن ہونا چاہیئے کیونکہ دونوں ایٹمی طاقت ہیں پہلے تو میدانی جنگ ہوا کرتی تھی اب اگر جنگ ہوگئی تو یہ ایٹمی جنگ ہوجائے گی جس سے دونوں ملکوں کو بہت نقصان ہوگا۔‘

رینجرز کے حکام نے سرحدی علاقوں میں غیر معمولی تعیناتی کی خبروں سے انکار کیا ہے۔

تھر پارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ اضلاع میں آْباد کئی ایسے خاندان ہیں جن میں سے کچھ تقسیم ہند کے وقت، تو کچھ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کی وجہ سے تقسیم ہوگئے۔ نامور سندھی کالم نگار ارباب نیک محمد بھی انہیں متاثرین میں سے ہیں جو جنگ سے قبل ننیہال میں آئے تھے اور یہاں کے ہی ہوکر رہ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں طرف مسلمان اور ہندو کمیونٹی آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور علاقے ملے ہوئے ہیں۔ اس قدر کہ اگر ایک سرحدی گاؤں میں شادی کے گیت گائے جاتے ہیں تو دوسرے میں آواز سنائی دیتی ہے۔

’پندرہ سال قبل تک تو یہاں خاردار تاریں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں اور
اتنی زیادہ نگرانی نہیں تھی تو لوگ خوشی اور غم میں آتے جاتے تھے۔
بھیڑ بکریاں ادھر کی ادھر چلی جاتیں جنہیں واپس کردیا جاتا تھا، دونوں طرف خاندان بٹے ہوئے ہیں ماں اگر یہاں ہے تو بیٹی وہاں ہے۔‘

انیس سو پینٹسھ اور اکہتر کی جنگ میں جہاں ان علاقوں میں جانی نقصان ہوا وہاں بڑے پیمانے پر لوٹ مار نے لوگوں کو کنگال کردیا تھا، کارگل کے وقت جب لوگوں نے نقل مکانی کی تو اس وقت تھر میں قحط پڑ چکا تھا۔ اس وقت بھی قحط کی صورتحال ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد