BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 December, 2008, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے این پی رکن اسمبلی کا گھر تباہ

سوات
مقامی طالبان نے عید کے موقع پر فائر بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے مختلف واقعات میں مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کے گھر ، جحرے اور لڑکوں کے ایک ہائی سکول کو دھماکہ خیز مواد میں تباہ کر دیا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پہلا واقعہ صدر مقام مینگورہ کے علاقے منگلوار میں جمعرات کی رات اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی مظفر الملک عرف کاکی خان کے گھر اور حجرے کو بم دھماکوں سے نشانہ بنایا جس سے دونوں عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ تاہم حملے کے وقت گھر اور حجرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے سولہ کمروں پر مشتمل گھر اور حجرہ کی عمارتیں مکمل طورپر زمین بوس ہوگئی ہیں۔ سوات میں سیاسی رہنماؤں ، منتخب ارکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ناظمین پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے گھروں کو شدت پسندوں کی طرف سے نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔ ان واقعات میں ایک سابق صوبائی وزیر سمیت درجنوں افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

پولیس کے مطابق دوسرا واقعہ بھی مینگورہ ہی کے علاقے قمبر میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے لڑکوں کے ایک ہائی سکول کو دھماکہ خیزمواد سے تباہ کردیا ہے۔

سوات کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا کہ دھماکوں سے دو منزلہ عمارت مکمل طورپر زمین بوس ہوگئی ہے۔ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ سکول بارہ کمروں پر مشتمل تھا جس میں دس کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ دوکمروں کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے۔

ادھر سوات کے علاقے کوزہ بانڈئی میں ایک اور واقعہ میں مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے ایک لڑکا ہلاک جبکہ ایک اور زخمی ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ گولہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا تھا جس سے لاش کے دو ٹکڑے ہوگئے ہیں۔ اس واقعہ کے خلاف کوزہ بانڈئی کے درجنوں افراد نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے گھروں پر حملے فوری طورپر بند کئے جائیں۔

اسی بارے میں
ڈیرہ اسماعیل، صحافی پر حملہ
24 November, 2008 | پاکستان
بس میرا نام نہ آئے
18 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد