BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 November, 2008, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس میرا نام نہ آئے

یقین نہیں آتا کہ یکجہتی اور بے حسی کس طرح سے ہمسفر بن سکتے ہیں
یہ بات اب تک معمہ ہے کہ سترہ نومبر کو کیا واقعی کراچی اور اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں میں جیو اور اے آر وائی کی نشریات کچھ گھنٹے کے لئے بند ہوئی تھیں یا نہیں۔

دونوں چینلز کئی گھنٹے تک یہ شکایت کرتے رہے کہ انکی نشریات میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ دیگر چینلز کی طرح مذکورہ دونوں چینلز بھی کیبل آپریٹرز کے توسط سے ناظرین کے گھروں تک پہنچتے ہیں۔ کسی بھی چینل کی نشریات کیبل آپریٹرز کے تعاون کے بغیر بند نہیں ہوسکتیں۔اور اگر ایسا ہوا ہے تو یقیناً کسی نہ کسی کیبل آپریٹر نے فوری طور پر مذکورہ چینلز کو نہ صرف نشریاتی خلل کی اطلاع دی ہوگی بلکہ جس فرد یا گروہ کے دباؤ میں آ کر یہ کارروائی کی گئی یقیناً اس کے نام سے بھی چینل انتظامیہ کو آگاہ کیا ہوگا۔

اسکے باوجود یہ چینلز کئی گھنٹے مختلف افراد اور تنظیموں کی جانب سے مذمتی بیانات تو نشر کرتے رہے لیکن ذمہ داروں کا نام ایک دفعہ بھی نہ لے سکے۔البتہ حکومت سے یہ مطالبہ کیا جاتا رھا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔

جب حکومت نے ان چینلز کی انتظامیہ سے استفسار کیا کہ وہ کم از کم یہی بتادیں کہ انہیں کس پر شبہہ ہے تو چینل انتظامیہ کا جواب تھا کہ یہ بھی حکومت ہی معلوم کرے۔

کچھ ذرائع کے مطابق ایک چینل کی اعلی انتظامیہ نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکام کو ملزمان کا نام تو بتا دیا لیکن ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ کسی کارروائی کی صورت میں ’ہمارا‘ حوالہ نہ دیا جائے۔

’گدھے کے کان اینٹھ دینا‘
ایک جانب کراچی میں چینلز کی نشریات میں خلل ڈالنے والوں کا نام تک نہ لینا اور دوسری جانب نشریاتی خلل اور گورنرسلمان تاثیر کی خبر کو ایک ساتھ نمایاں کرنا ایسا ہی ہے جیسے کمہار پر بس نہ چلے تو گدھے کے کان اینٹھ دیئے جائیں
مبصرین

جنگ گروپ جو جیو چینل کا مالک ہے اسکے انگریزی اخبار دی نیوز نے نشریاتی خلل کی خبر صفحہ اول پر شائع کی جس میں وزیرِ اعظم سے لے کر سماجی کارکنوں تک ہر ایک کی جانب سے مذمتی بیان شامل کیا گیا۔لیکن پوری خبر میں کسی پر الزام نہیں دھرا گیا۔

بس آخر میں جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سے یہ بات منسوب کی گئی کہ نشریاتی خلل کے ذمہ دار حکومت سندھ میں شامل پیپلز پارٹی کے سیاسی اتحادی ہیں۔جبکہ گروپ کے اردو اخبار جنگ نے قاضی حسین احمد کا یہ الزام اپنی خبر میں شامل نہیں کیا۔

البتہ دونوں اخبارات اور جیو چینل نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے جیو کو ہی دیئے گئے ایک انٹرویو کے اقتباسات نمایاں طور پر شائع اور نشر کرکے اپنی بھڑاس نکال لی۔اس انٹرویو میں گورنر تاثیر نے میڈیا کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت سست کہا اور یہ بھی کہا کہ جس انداز میں نجی الیکٹرونک میڈیا حالات و واقعات کو سنسنی خیزی کے ساتھ اچھالتا ہے کسی اور ملک میں اس طرح کے طرزِ عمل پر کئی لوگوں کو ہتھکڑیاں لگ سکتی تھیں۔

بعض مبصرین کے بقول ایک جانب کراچی میں چینلز کی نشریات میں خلل ڈالنے والوں کا نام تک نہ لینا اور دوسری جانب نشریاتی خلل اور گورنرسلمان تاثیر کی خبر کو ایک ساتھ نمایاں کرنا ایسا ہی ہے جیسے کمہار پر بس نہ چلے تو گدھے کے کان اینٹھ دیئے جائیں۔

میڈیا نہ دبنے نہ جھکنے کا نعرہ لگاتا رہتا ہے۔ایک چینل کا نعرہ ہے ہر خبر پر نظر۔ایک چینل کا دعوٰی ہے کہ جو سب چھپاتے ہیں وہ ہم دکھاتے ہیں۔ایک اخبار کی پیشانی پر روزانہ لکھا جاتا ہے کہ بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ایک اخبار نے اس مقولے کو اپنا رکھا ہے کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔

ان دلیرانہ دعووں کے باوجود بیشتر میڈیا مالکان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس گروہ ، حکومت یا فرد کے سامنے کتنی جرآت کس وقت دکھانی ہے یا نہیں دکھانی۔کئی اخبارات یا میڈیا ادارے ایسے ہیں جن کو آزادی صحافت اس وقت یاد آتی ہے جب اشتہارات کے کوٹے میں کمی بیشی یا ٹیکس کے معاملات کے بہانے گرفت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن جب کوئی طاقتور تنظیم انہی اخبارات کا بائیکاٹ کرتی ہے، اخبارات کے بنڈل نذرِ آتش کرتی ہے یا کسی چینل کےصحافیوں پر تشدد کرتی ہے تو اس تنظیم کا نام تک متاثرہ اخبار یا چینل پر نہیں آتا۔صرف ایک تنظیم یا گروہ یا نامعلوم افراد جیسی مبہم اصطلاحات استعمال کرکے جراتِ اظہار کی لاج رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ان نامعلوم افراد کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات ہوتے ہیں اور درپردہ معافی تلافی بھی ہوتی ہے۔ناپسندیدہ صحافیوں کو ان نامعلوم تنظیموں، اداروں یا افراد کے دباؤ پر ادھر ادھر بھی کردیا جاتا ہے۔

ایک مثال تو ایسی بھی ہے کہ ایک چینل کا رپورٹر لاپتہ ہوگیا مگر چینل کو یہ خبر ڈھائی ماہ بعد نشر کرنے کا حوصلہ ہوا۔اسی طرح جب ایک چینل کے کیمرہ مین کو اندرونِ سندھ ایک مقامی سیاسی شخصیت کے حامیوں نے قتل کردیا تو مقتول کیمرہ مین کے ادارے نے قاتل پارٹی سے مطالبہ کیا کہ مقدمے کا فیصلہ تو ہوتا رہے گا لیکن جھگڑے کے دوران جو کیمرہ ٹوٹا کم ازکم ادارے کو اس کے پیسے تو دیئے جائیں۔

میڈیا کے ادارے اور مالکان اگرچہ اجتماعی نکات پر اکثر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن انفرادی سطح پر وہ ایک دوسرے کے معاملے میں اتنے ہی اجنبی ہیں۔مثلاً گذشتہ ہفتے حکومتِ سندھ نے دو جریدوں یعنی اسلام اور ضربِ مومن کو ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے کے الزام میں بند کردیا۔مجال ہے کہ کسی قومی اخبار یا چینل نے اس معاملے کی ادارتی سطح پر چھان پھٹک کرنے کی کوشش کی ہو۔

آج تک حرفِ پشیمانی نہیں
حال ہی میں ایک چینل کے مذہبی پروگرام میں ایک فرقے کے لوگوں کے قتل کو جائز قرار دیا گیا۔جس کے بعد مختلف علاقوں میں کم ازکم تین لوگ قتل بھی ہوگئے۔لیکن یہ پروگرام بغیر کسی حرفِ پشیمانی کے آج بھی جاری ہے۔سوائے ایک آدھ اخبار کے کسی نے یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی

اخبارات اور چینلز کے رپورٹر اکثر ہر خبر اور واقعہ کی ساتھ ساتھ کوریج کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا آڑے وقت میں ساتھ بھی دیتے ہیں۔لیکن اگر ان میں سے کوئی رپورٹر کسی واقعہ میں مر جائے یا زخمی ہوجائے تو دوسرے اخبارات اور چینلز کچھ اس طرح سے خبر نشر یا شائع کرتے ہیں کہ فلاں واقعہ میں ایک نجی اخبار یا چینل کا رپورٹر جاں بحق۔۔۔فل سٹاپ۔۔۔۔یا ایک نجی چینل یا مقامی اخبار کے دفتر پر نامعلوم افراد کا حملہ۔۔۔۔فل سٹاپ۔۔۔۔یقین نہیں آتا کہ یکجہتی اور بے حسی کس طرح سے ہمسفر بن سکتے۔

کئی اخبارات اور چینلز کے لئے یہ معمول کی بات ہے کہ وہ خبر کے غلط یا بے بنیاد ثابت ہونے پر کسی قسم کی معذرت نہیں کرتے اور نہ ہی خبر واپس لینے یا اسکی تصیح کا تکلف کرتے ہیں۔آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی واقعہ میں مرنے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد پر میڈیا کے بیشتر اداروں کا اتفاق ہوسکا ہو۔

حال ہی میں ایک چینل کے مذہبی پروگرام میں ایک فرقے کے لوگوں کے قتل کو جائز قرار دیا گیا۔جس کے بعد مختلف علاقوں میں کم ازکم تین لوگ قتل بھی ہوگئے۔لیکن یہ پروگرام بغیر کسی حرفِ پشیمانی کے آج بھی جاری ہے۔سوائے ایک آدھ اخبار کے کسی نے یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔

متعدد اخبارات و چینلز کسی بھی ویب سائٹ یا نشریاتی چینل سے مواد ، مضامین اور کالم لے اڑتے ہیں اور پھر انہیں بغیر حوالے کے اس طرح سے شائع یا نشر کرتے ہیں جیسے یہ خالصتاً ان کی کاوش ہو۔شاید سرقے، چوری اور اشاعتی حقوق کی پامالی کو بھی آزادی صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ان حالات میں جب تک میڈیا اپنے ہی پر کوئی ضابطہ اخلاق لاگو نہیں کرتا آزادی اظہار کی گنگا اسی طرح بہتی رہے گی۔

صحافی اور پاکستان
صحافیوں کے لیے پاکستان تیسرا خطرناک ملک
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
اسی بارے میں
نشریات کے بعد اب ڈش بھی بند
13 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد