لشکر کے کیمپ پر فوج کا کنٹرول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے مظفرآباد کے نواح میں لشکر طیبہ کے مبینہ کیمپ پر کارروائی کرکے اس کو اپنے کنڑول میں لیا ہے۔ یہ کارروائی اتوار کو شروع ہوئی تھی لیکن پیر کو پہلی مرتبہ پاکستان کی فوج کے ترجمان نے اس کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق لشکر کے آپریشن سربراہ ذکی الرحمن لکھوی کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اسی دوران لشکر طیبہ کے سابق سربراہ حافظ محمد سعید نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔ ہندوستان کا الزام ہے کہ ممبئی کے حملوں میں لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔ان حملوں کے بعد سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرے۔ عینی شاہدین کا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے اتوار کو بعد دو پہر مظفرآباد کے نواح میں واقع شوائی نالہ کے علاقے کو محاصرے میں لے کر وہاں ممنوعہ لشکیر طیبہ کے کیمپ پر کارروائی کی۔ یہ علاقہ مظفرآباد سے کوئی پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے انہوں نے اس علاقے میں ہیلی کاپڑ کو فضا میں منڈ لاتے ہوئے دیکھا اور اور دھماکو کی بھی آوازیں سنیں۔ ایک عینی شاہد ظہور احم بٹ کا کہنا ہے کہ ’اتوار کو دن تین بچے کا وقت تھا کہ شوائی نالے کی طرف سے دھماکوں کی آواز آئیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’میں صورت حال معلوم کرنے کے لئے وہاں کی طرف چل نکلا کہ راستے میں پہلے تو پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور اس کے بعد فوج نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور وہ لوگوں کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔‘ بٹ کا کہنا ہے کہ’ میرے وہاں پہنچتے ہی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور میں نے ایک عمارت کو گرتے ہوئے دیکھا۔‘ ’ اسی اثنا میں فوج نے سات سے آٹھ افراد کو پکڑ ا اور ان کے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے اور ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے ہوئے تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ فوج ان کو گاڑی میں بٹھا کر شہر کی طرف لے آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شام تک وہاں دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ اس کارروائی میں فوج کی کافی تعداد نے حصہ لیا اور وہ اب بھی فوج وہاں پر موجود ہے اور یہ علاقہ بدستور محاصرے میں ہے۔ صحافیوں نے اس علاقے میں جانے کی کوشش کی لیکن محاصرے کی وجہ نہیں جاسکے۔ التبہ واپسی پر فوج کی کوئی ایک درجن گاڑیاں شہر کی طرف آتے ہوئے دیکھی گئیں۔ فوج کے ترجمان کی طرف سے پیر کی شام کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور یہ کہ ممنوعہ تنظیموں کے خلاف یہ کارروائی خفییہ اداروں کی رہنمائی میں کی جارہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ’ اس دوران گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔‘ لیکن گرفتار شدگان کی تعداد اور ان کی شناخت کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی فوج کے ترجمان نے یہ بتایا کہ کون کون سی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اسی دوران پیر کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے بیان میں اس کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ’ بھارت کے دباؤ پر جہادی تنظیموں کے خلاف کاروائی بلاجواز ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے بغیر کسی ثبوت کے جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرکے کمزوری کا ثبوت دیا ہے اور یہ کہ اس سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔‘ ہندوستان کا الزام ہے کہ ممبئی کے حملوں میں ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا اور یہ کہ اس کا ایک کارکن پولیس کی تحویل میں ہے۔ |
اسی بارے میں ’جہاد پر بات کرنے سے گریز‘04 December, 2008 | صفحۂ اول حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں‘03 December, 2008 | انڈیا پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا سابق فوجیوں نے تربیت دی: کمشنر02 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||