BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 December, 2008, 03:16 GMT 08:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرکز طیبہ نئے روپ میں

جماعتہ الدعوۃ کمپلیکس
یہ کمپلیکس پاکستان کے کسی بھی دوسرے سکول کی طرح نظر آتا ہے
جماعتہ الدعوۃ نے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو لاہورسے تیس کلومیٹر شمال میں واقع اپنے مرکز طیبہ کا دورہ کرایا۔ لیکن ماضی کے برعکس مرکز طیبہ اس مرتبہ میرے لیے ایک نیا روپ لیے ہوئے تھا۔

یہ مجھے کیسے مختلف لگا اس بارے میں بعد میں بات کریں گے پہلے اسی دورے کے بارے میں جاری کی گئی جماعتہ الدعوۃ کی پریس ریلز حاضر ہے: ’نمائندے بھارتی پراپیگنڈے کی حقیقت دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جس مرکز کے خلاف شدومد سے پرپیگنڈہ کیا جا رہا تھا اس میں ایک مسجد، ایک مدرسہ، ایک سائنس کالج اور ایک گرلز سکول کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو قابل توجہ ہو۔


ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے الدعوۃ سائنس کالج کے طلباء مرکز کے رہائشیوں، ملازمین اور دیگر رہائشیوں کے انٹرویو کیے۔

غیر ملکی نمائندے اس بات پر حیران تھے کہ یہاں تو کوئی ٹریننگ سینٹر نظر آیا اور نہ ہی یہاں جہادی ملے۔‘

مجھے مذکورہ پریس ریلز کے متن سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے بس صرف یہ کہ ممکن ہے کہ تمام صحافی مطمئن نہ ہوئے ہوں۔ بہرحال یہ ان کا مسئلہ ہے۔

میں تو صرف وہ فرق بیان کرنا چاہتا ہے جو مجھے حالیہ دورے اور ماضی کے دوروں میں محسوس ہوا ہے۔

مثال کے طور پر مرکزی داخلی راستے پر کار اور اس کے ڈرائیور کی جامہ تلاشی تو ہوئی لیکن مجھے ’معاف‘ کردیا گیا حالانکہ اس سے پہلے مجھے ہمیشہ کڑی جامہ تلاشی کے مرحلے سے گذرنا پڑتا تھا۔

جماعتہ الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر
’حافظ سعید لشکر طیبہ کے بانی نہیں ہیں‘

مرکزی دروازے سے لیکر مہمان خانے تک کسی جگہ کوئی مسلح شخص دکھائی نہیں دیا حالانکہ ماضی میں اس مرکز میں داخلے سے پہلے ہی مسلح اور باریش افراد دکھائی دینا شروع ہوجاتے تھے اور مرکزی دروازے پر بھی ایک سے زائد مسلح اہلکار موجود ہوتے تھے اور مرکز کے اندر بھی کلاشنکوف برداروں کی بڑی تعداد نظر آتی تھی۔

پورے دورے کےدوران منتظمین جہاد کے موضوع پر بات کرنے سے گریزکرتے رہے حالانکہ ماضی میں اس مرکز میں ملنے والے ہر شخص کا محبوب موضوع جہاد رہتا تھا۔

جماعتہ الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر کایہ بیان میرے لیے واقعی انکشاف تھا کہ حافظ سعید لشکر طیبہ کے بانی نہیں ہیں اور یہ بھی کہ جماعتہ الدعوۃ تو لشکر طیبہ سے بہت پہلے سنہ انیس سو پچاسی میں وجود میں آچکی تھی اور لشکر طیبہ سے ان کا محض ایک ’تعلق‘ تھا وہ بھی ایسا جیسا کہ ان کے بقول ہر پاکستانی کا جہاد کشمیر سے ہے۔

ترجمان نے اگرچہ اس ’تعلق‘ ٰکی وضاحت نہیں کی لیکن لشکرطیبہ کو کالعدم قرار دیئے جانے سے پہلے میں چمبرلین روڈ پر جتنی بار بھی جماعتہ الدعوۃ کے موجودہ دفتر گیا اسے لشکر طیبہ کا مرکزی دفتر سمجھ کر گیا۔مریدکے میں اسی مقام پر ہونے والے اجتماعات اور دیگر تقریبات کو دیگر میڈیا کی طرح میں بھی لشکر طیبہ کے نام سے رپورٹ کرتا رہا۔اخبارات میں ہمیشہ حافظ سعید صاحب کو لشکر طیبہ کا امیر لکھوایا جاتا اور اسی عہدے کے لحاظ سے پریس ریلز جاری ہوتا تھا۔

جماعتہ الدعوۃ کمپلیکس
ماضی میں الزام لگتا رہا ہے کہ اس کمپلیکس میں شدت پسندوں کو تربیت دی جاتی تھی

مرکز طیبہ اس بار کچھ خالی خالی نظر آیا، چند اساتذہ اور کلاس روموں میں موجود چند درجن بچے تھے معلوم ہوا کہ عید کی چھٹیاں ہے اور ہاسٹلز بھی خالی ہیں۔ ماضی میں جب کبھی بھی میں جماعتہ الدعوۃ کے سالانہ اجتماع میں آیا تو وہ ہزاروں بلکہ مقامی میڈیا کے مطابق لاکھوں لوگوں سے بھرا ملا۔

اس بار مرکز طیبہ کے منتظمین اور دیگر لوگ جہاد اور عسکری تربیت کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیئے۔ ماضی میں اسی مرکز میں پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے لوٹنے والے ان جہادیوں کی پذیرائی کا منظر میرے لیے ناقابل فراموش ہے جو اپنے ساتھ کسی ہندو دیوی کی چاندی کی ایک مورتی بھی لائے تھے۔

اس وقت کی لشکر طیبہ کے عہدیداروں نے سٹیج سے اعلان کیا تھا کہ یہ مورتی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کسی مندر کی تباہی کے بعد وہاں سے اکھاڑی گئی ہے۔ چاندی کی اس مورتی پر رنگ برنگے قیمتی پتھر جڑے تھے۔اسی مرکز کے میدان میں اس مورتی پر ٹھڈے،جوتے ڈنڈے اور ہتھوڑے برسا کر اسے توڑنے کی کوشش کی گئی۔

جماعتہ الدعوۃ نے مہمان نوازی کی روایت کو اس بار بھی نبھایا اور واضعداری سے بھرپور اعلان کیا کہ صحافی کھانا کھائے بغیر نہیں جا سکتے۔

کھانا کھلائے بغیر تواس سے پہلے بھی کبھی جماعتہ الدعوۃ کے منتظمین نے نہیں جانے دیا تھا لیکن اس بار میں نے الگ پلیٹ میں چمچ کے ساتھ کھانا کھایا اور گلاس میں پانی پیا۔ ماضی میں سب کو گروپوں میں ایک ہی تھال میں ہاتھ سے چاول کے نوالے بنا کر کھانا ہوتا تھا اور سب جگ کو منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔ منتظمین نے بتا رکھا تھا کہ کھانے پینے کا یہی اسلامی طریقہ کار ہے اورمہمانوں کو بھی اسی پر عمل کرنا چاہیے۔

جماعتہ الدعوۃ کے منتظمین کے رویے میں اتنی تبدیلیاں مجھے کھٹک رہی ہے۔ممکن ہے کہ میرا یہ کھٹکنا بے بنیاد ہو کیونکہ جماعتہ الدعوۃ کے نرم خو ترجمان عبداللہ منتظر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان ان کے امیر حافظ سعید کو بھارت کے مطالبے پر اس کے حوالے کردے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ایک آزاد شہری کو پکڑ کر بھارت کے حوالے کر دیا جائےاوراس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی حکومت پاکستان کی طرف سے ایسی کوئی بات ہوگی۔ پاکستان کے عوام ابھی زندہ ہیں۔‘

تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
حملہ آورحملہ آوروں کی دلیری
حملہ آوروں کی دلیری حیران کن : عینی شاہدین
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
ممبئی: کب کیا ہوا
ممبئی میں حملے، کب کیا ہوا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد