جمہوری ترقی کے لیے آزاد عدلیہ لازم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو پابند رکھ کر جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی اوربقول ان کے ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ ہی ملک کے اندر کسی بھی غیر آئینی تبدیلی کے خلاف فصیل کا کام دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کی رات سرگودھا کی ضلعی بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آزاد منشا جج ہی مقنقہ اور انتظامیہ کے لیے تقویت کا باعث ہوتے ہیں۔ معزول چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا تحریک کے بعد حکمران اب خواہ چاہے وردی پوش ہو یا وردی کے بغیر اب اسے یہ جرات نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے علاوہ کوئی بات کر سکے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ ملک کی عدلیہ گزشتہ دہائیوں میں وہ کردار ادا نہیں کرسکی کیا جو اسے ادا کرنا چاہیئے اور بقول ان کے پاکستان میں عدلیہ ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے اس سال جون میں جو لانگ مارچ کیا ہے اس سے عوام میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی ہے جو زندہ انقلاب کی نوید اور پاکستان کے لیے ایک نئے منشور کا اعلان تھا کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ، آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آئین کے کچھ اصول پر عمل درآمد کیا جائے اور دیگر کو نظر انداز کردیا جائے ۔ان کے بقول ایسا کرنا ملکی بقا اور ترقی کے لیے اچھے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس آئین تو ہے لیکن اس آئین کو کبھی تو منسوخ کردیا جاتا ہے اور کبھی معطل۔ معزول چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ملک آج گوناں گو مشکلات سے دوچار ہے اور پاکستان طوفانوں کی زد میں دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے دشمن ملک کو اس کے اسٹریٹجک اثاثوں محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلاء جس جذبے اور جوش کے ساتھ گزشتہ بائیس ماہ سے جدوجہد کر رہے ہیں اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد ججوں کی بحالی کے لیے دس دنوں کی مہلت دیں گے اور اس کے بعد تحریک چلائی جائے گی۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ وکلاء پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ پارلیمنٹ خود مضبوط بننے کے لیے تیار ہو۔ ان کے بقول آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت بچ نہیں سکتی اور بوٹوں کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’گو ڈوگر گو‘ کے مطالبہ پر توانائی کو ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا جانا ٹھہرگیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ اور مضبوط پارلیمان کا آپس میں گہرا رشتہ ہے اور آزاد عدلیہ کے لیے مضبوط پارلیمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا آج ملک میں عدلیہ نے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ | اسی بارے میں معزول چیف جسٹس امریکہ سے واپس28 November, 2008 | پاکستان پاکستانی ڈاکٹروں کا افتخار کے لیے استقبالیہ23 November, 2008 | پاکستان معزول چیف جسٹس کو تمغہ آزادی20 November, 2008 | پاکستان آزاد عدلیہ کا جنم دن ہے: کرد16 November, 2008 | پاکستان ’اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘09 November, 2008 | پاکستان حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد08 November, 2008 | پاکستان ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد03 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||