پاکستانی ڈاکٹروں کا افتخار کے لیے استقبالیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا زبردست استقبال کیا ہے۔ سنیچر کی شب نیویارک کے علاقے لانگ آئيلینڈ میں امریکہ میں رہنے والے ڈاکٹروں کی ایک نتظیم ’ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی اینڈ جسٹس‘ نے پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایک بڑا استقبالیہ دیا جس میں نیویارک سمیت امریکہ کی کئی ریاستوں میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں سمیت سینکڑوں پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ’افتخار ہمارا چیف جسٹس، آئے گا دوبارہ چیف جسٹس‘ کے نعروں کی گونج میں نیویارک میں ان کے استقبالیے میں آئے ہوئے پاکستانیوں نے معزول چیف جسٹس کا استقبال اپنی نشستوں سے کئي منٹوں تک کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر کیا- چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری استقبالیے میں ہر تقریباً پر میز پر گئے اور وہاں بیٹھے لوگوں سے ہاتھ ملایا۔ حاضرین کی بڑي تعداد نے معزول چیف جسٹس کے ساتھ شوق سے تصاویر بھی بنوائیں۔
’ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی اینڈ جسٹس ان پاکستان‘ امریکہ میں رہنے والے ڈاکٹروں نے پاکستان میں وکلاء کے عوامی احتجاج کے ساتھ یکجہتی اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قائم کی تھی۔ لانگ آئلینڈ کے ایک مقامی پارٹی ہال میں دیے گئے استقبالیے سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہردی نے حسب معمول خطاب نہیں کیا بلکہ ان کی طرف سے ان کے ترجمان اور معتمد خاص اطہر من اللہ نے امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں اور کمیونٹی کی طرف سے معزورل چیف جسٹس کو دی جانیوالے پذیرائي پر ان کا شکریہ ادا کیا اور خطاب کیا- اطہر من اللہ نےکہا کہ پاکستان میں حکومتی حلقہ بگوش وکلاء کی تحریک کو ’پولیٹیسائز‘ کرنے یا سیاسی رنگ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ سیاسی رنگ دینے کا مطلب آئین اور قانون کی حکمرانی، اور انسانی حقوق کی بحالی ہے- انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق، آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اگر کام کرنا سیاست ہے تو پاکستان کے وکلاء یہ جرم بار بار کرتے رہیں گے۔
اپنا کے رہنما ڈاکٹر محمد تقی نے معزول چیف جسٹس کی پاکستان میں آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے لیے کوششوں میں ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ کی اپنے ہی گـھر میں پابند و قید ہونے پر خراج تحسن پیش کرتے ہوئے ان کے چھوٹے بیٹے بالاچ افتخار کا موازنہ بلوچ قوم پرست رہنما بالاچ مری کیساتھ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بالاچ نام کے بچے نے پاکستان میں قانون کی حمکرانی کے لیے قید و بند برداشت کی تو ’دوسرے بالاچ نام کے نوجوان نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑتے اپنی زندگي کی قربانی دی‘۔ تقریب سے سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان میں وکلاء تحریک کے دوران ریاستی تشدد و قید سے گزرنے والے وکیل ارشد بگو نے بھی خطاب کیا-
تقریب میں چیف جسٹس کے وکیل اور پاکستان سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن کی غیر حاضری بہت سے شرکاء کی بحث کا موضوع بنی رہی جبکہ ان کی ایک نظم پر مبنی وڈیو اور ثمر من اللہ کی پاکستان میں لڑکیاں اور بچیاں ونی میں دی جانیوالی ’رسم‘ پر بنی دستاویزی فلم دکھائي گئی۔ فلم کے مطابق ونی میں ملوث جاگيرداروں اور وڈیروں کے خلاف چیف جسٹس کی طرف سے قانونی اقدامات ان کی معزولی کی وجوہات میں اسے ایک وجہ تھی۔ تقریب میں حسب معمول پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے پاکستان میں لاپتہ لوگوں کی خفیہ ایجینسیوں کے ہاتھوں گمشدگيوں اور ان کی بازیابی کے لیے چیف جسٹس کے اقدامات کے ذکر پر کھڑے ہوکر کئي منٹوں تک پرزور تالیاں بجائيں۔ اس سے ایک روز قبل جب چیف جسٹس نماز جعمہ ادا کرنے کو بروکلین کی مشہور مکی مسجد پہنچے تھے تو پاکستانیوں کی ایک بڑي تعداد نے ان کا استقبال کیا تھا اور افتخار محمد چودھری پاکستانیوں میں گھل مل گئے تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے علامہ اقبال کا شعر بھی پڑھا تھا ’ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، نہ کوئي بندہ رہا نہ کوئي بندہ نواز۔‘ پاکستانیوں کے استقبالی ہجوموں میں گھرے میں معزول چیف جسٹس سے کئي پاکستانی ہاتھ ملاتے ہیں، ان کے ہاتھ چوم کر آنکھوں پر رکھتے ہیں اور کئی گلے ملتے ہیں اور پھر رونے لگتے ہیں- معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی پاکستانی کمیونٹی، تنظیموں اور امریکی یونیورسٹیوں اور اداروں میں زبردست پذیرائي جاری ہے۔ وہ پیر کے روز جارج ٹائون یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کر رہے ہیں جبکہ منگل کو وہ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں بھی خطاب کرنے والے ہیں۔ | اسی بارے میں معزول چیف جسٹس کو تمغہ آزادی20 November, 2008 | پاکستان نیو یارک میں شاندار استقبال17 November, 2008 | پاکستان آزاد عدلیہ کا جنم دن ہے: کرد16 November, 2008 | پاکستان جسٹس چوہدری امریکہ کے دورے پر15 November, 2008 | پاکستان ’اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘09 November, 2008 | پاکستان ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان میرا فیصلہ درست تھا، افتخار چودھری03 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||