BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزاد عدلیہ کا جنم دن ہے: کرد

معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری
حکومت نےجسٹس افتخار کو مکمل پروٹوکول دینے کا فیصلہ کیا ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نےحکومتِ پاکستان کی جانب سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دورہ امریکہ کے دوران ڈپلومیٹک پاسپورٹ اور سرکاری پرٹوکول دینے کے فیصلہ کو ایک آزاد عدلیہ کا جنم دن قرار دیا ہے۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی امریکہ روانگی سے قبل ان کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد نے بتایا کہ حکومت کے فیصلے کے مطابق معزول چیف جسٹس بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان دورہ امریکہ کے لیے سفارتی پاسپورٹ پر سفر کریں گے اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ انہیں سرکاری پروٹوکول فراہم کرےگا جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے عملاً اور حقیقتاً ان کو چیف جسٹس تسلیم کر لیا ہے۔

علی احمد کرد کے مطابق ’حکومت کے فیصلے سے ایک آزاد اور طاقتوار عدلیہ کی تحریک کو ایک نیا اور خوشگوار رخ ملا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے ساٹھ سال اور خاص طور پر گذشتہ تین نومبر دو ہزار سات کو عدلیہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا قطعی طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

انہوں نے حکومت کی جانب سے معزول چیف جسٹس کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کرنے اور امریکہ میں سرکاری پروٹوکول دینے کے فیصلے کو آزاد عدلیہ اور معزول چیف جسٹس کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عوام کے ساتھ انہوں نے آزاد عدلیہ کا جو وعدہ کیا تھا وہ آج پورا ہو گیا ہے اور اسی لیے آج کا دن ایک آزاد عدلیہ کا جنم دن ہے۔‘

علی احمد کرد نے مزید کہا کہ وکلاء تحریک کی جدو جہد کا سفر بہت کم رہ گیا ہے اور اب حکومت کو سنجیدگی سے چوھدری افتخار اور ان کے معزول ساتھیوں کو بحال کرنے کا سوچنا چاہیئے۔

اس سے پہلے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ کے دس روزہ دورے پر گھر سے ائرپورٹ روانہ ہوئے تو ان کے گھر کے باہر وکلاء اکھٹے ہو گئے۔ جو معزول چیف جسٹس کے حق میں نعرے بازی اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔

معزول چیف جسٹس کو امریکہ کے دورے کی دعوت نیویارک بار ایسوسی ایشن اور ہاروڈ یونیورسٹی کے لاء کالج نے مشترکہ طور پر دی تھی۔

واضع رہے کہ گذشتہ سال تین نومبر کو اس وست کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد معزول چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے ساٹھ ججوں کو برطرف کر دیا تھا۔ جبکہ بر طرف چیف جسٹس کو تقریباً چار ماہ تک گھر میں اہلِخانہ سمیت نطر بند رکھا گیا تھا۔

جبکہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں سنبھالتے ہی معزول چیف جسٹس کی نظر بندی تو ختم کر دی تھی لیکن بحال نہیں کیا تھا جس کے خلاف وکلاء، سول سوسائٹی اور حزب مخالف کی جماعتیں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد
08 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد