نیو یارک میں شاندار استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا نیویارک میں پاکستانیوں نے کسی راک سٹار کی طرح استقبال کیا ہے۔ نیویارک کے پرانے بسنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستانیوں کی طرف سے کبھی کسی سیاسی رہنما، صدر یا وزیر اعظم کا پاکستانیوں نے ایسا استقبال نہیں کیا۔ جسٹس چودھری کے استقبالیے میں موجود پاکستان پیلز پارٹی کے ایک پرانے کارکن سرفراز چیمہ نے کہا کہ ’ایسا استقبال تو بینظیر بھٹو کا بھی نہیں ہوا تھا۔‘ سرفراز چیمہ ان پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو پاکستان میں جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہروں میں آگے اگے رہے تھے۔ اتوار کی شب امریکہ کی کئي ریاستوں سے سینکڑوں پاکستانی مرد، عورتیں اور بچے نیو یارک میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے معزول چیف جسٹس کو دیے گئے استقبالیے میں شرکت کرنے آئے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چـودھری کا انتہائي والہانہ استقبال پاکستانیوں نے ’چیف تیرے جاں نثار بے شمار بے شمار‘ کے نعروں، پھولوں اور نظموں کے ساتھ کیا۔ تقریب میں پاکستان مسلم لیگ نواز یو ایس کی قیادت سمیت پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان یو ایس فریڈم فورم، خیبر سوسائٹی، اور حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (جسکے کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر شریک ہونے آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ افتخار محمد چودھری کو بینظیر بھٹو کے وعدے کے مطابق بحال ہونا چاہیے) اور اسکی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی کے کئي کارکنوں کے علاوہ عام پاکستانی امریکی شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ استقبالیے کا اہمتمام پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائیٹس نے کیا تھا۔ معزول چیف جسٹس کے ہمراہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن اور چیف جسٹس کے ترجمان اطہر من اللہ بھی موجود تھے۔ اس سے قبل نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر معزول چیف جسٹس کو وی آئی پی کا پروٹوکول دئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ لیکن معزول چیف جسٹس کے نیویارک میں میزبانی کے چیف کو آرڈینٹر رانا رمضان نے ایسی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے- بروکلین میں دیے گئے انکے استقبالیے میں موجود لوگوں کو سیساسی نعروں سے اجتناب برتنے کو کہا جاتا رہا۔ انکے استقبالیے میں آنے والے لوگوں نے کئي منٹوں تک کھڑے ہوکر تالیاں بجاکر انکا استقبال کیا۔ استبقالیے میں موجود ایک عمر رسیدہ پاکستانی آدم حسین نے، جو پاکستان کے سیالکوٹ سے اپنے عزیزوں سے ملنے نیویارک آئے ہوئے ہیں، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا’جو بھی حق کی بات کرتا ہے لوگ اسکے دیوانے ہوجاتے ہیں۔ میں اس لیے چیف جسٹس کو دیکھنے اور سننے آیا ہوں کیونکہ اس آدمی نے مشرف کے آگے حق کی بات کی تھی-‘ لیکن معزول چیف جسٹس نے اس موقع پر تقریر نہیں کی۔ اعتزاز احسن نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس تقریر نہیں کیا کرتے اور کوڈ آف کنڈکٹ کے موجب وہ نیویارک میں بھی عوامی خطاب نہیں کریں گے۔ اعتزاز احسن نے تقریب سے خطاب کیا۔انہوں نے پاکستان میں لاپتہ شہریوں کی بزیابی کے لیے معزول چیف جسٹس کے احکامات کا ذکر کیا تو کئی منٹوں تک کھڑے ہو کر لوگ تالیاں بجاتے رہے۔ اعتزاز احسن نے وہاں موجود پاکستانیوں کی فرمائش پر انکی تالیوں اور ولولے کی سنگت میں اپنی مشہور نظم پڑھی: پیر کی شام دنیا میں سب سے بڑی بار ایسوایشن کہلانے والی نیویارک بار ایسوسی ایشن اپنی ایک بڑی تقریب میں جبسٹس چودھری کو تا حیات اعزازي رکنیت دے رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘09 November, 2008 | پاکستان حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد08 November, 2008 | پاکستان ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان یوم سیاہ، بائیکاٹ اور احتجاجی ریلیاں03 November, 2008 | پاکستان میرا فیصلہ درست تھا، افتخار چودھری03 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||