خیبر ایجنسی، سکھ حکیم اغوا، قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے خیبر ایحنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک سکھ حکیم کی لاش ملی ہے جنہیں سر میں گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے جبکہ ایک معروف تاجر کے دو پوتوں کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا ہے۔ دوسری طرف ضلع ہنگو میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔ خیبر ایجنسی کے ایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح تحصیل جمرود کے علاقے شاہ کس میں ایک نالے کے قریب سے ایک سکھ حکیم کی لاش ملی ہے جنہیں سر میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ حکیم کو گزشتہ روز پشاور کے علاقے تاج آباد سے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے لاش قبضہ میں لیکر مرحوم کے ورثاء کے حوالے کردی ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ خیبرایجنسی کے علاقے باڑہ میں سکھ برادری بڑی تعداد میں آباد ہے جو تجارت اور حکمت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ خیبر اور اورکزئی ایجنسی میں سکھوں کے اغواء کے واقعات اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں تاہم کسی سکھ کی ہلاکت کا یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ بتایا جاتا ہے۔ دریں اثناء خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں نامعلوم مسلح افراد نے علاقے کے ایک معروف تاجر کے دو پوتوں کو اغواء کرلیا ہے۔ پولٹیکل حکام کے مطابق پیر کی صبح زیڑی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف تاجر گل حسن کے دو پوتوں کو اغواء کرلیا ہے۔ دری اثناء مقامی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز بھی بیت اللہ گروپ کے طالبان نے شنواری قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو خاصہ دار اہلکاروں کو ایک جھڑپ کے بعد اغواء کر لیا تھا۔ خیبرایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں سے قتل اور اغواء کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس سے ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہنگو کے تحصیل ٹل میں گزشتہ رات اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے کرم ایجنسی کے سرحد پر واقع طورقل پولیس چیک پوسٹ پر راکٹ اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں ایک خاصہ دار اہلکار ہلاک جبکہ چیک پوسٹ کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دو روز قبل بھی ٹل میں ایک مسجد میں بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ ٹل تحصیل کے حدود تین قبائلی ایجنسیوں، کرم، اورکزئی اور شمالی وزیرستان سے ملتی ہیں۔ | اسی بارے میں نیٹو رسد، سکیورٹی میں قافلہ روانہ17 November, 2008 | پاکستان ٹرکوں کا اغواء، طالبان کی سیاست11 November, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن: حکومت کا مقصد کیا ہے؟03 July, 2008 | پاکستان خیبر: لشکرِ اسلام کا کمانڈرگرفتار02 July, 2008 | پاکستان خیبرایجنسی میں دو مراکز تباہ01 July, 2008 | پاکستان خیبر آپریشن: رات بھر خاموشی29 June, 2008 | پاکستان خیبر: لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن 28 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||