شرحِ سُود میں دو فیصد اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سٹیٹ بینک نے مالی پالیسی مزید سخت کر دی ہے اور شرح سود میں دو فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اس فیصلے سے آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول آسان ہوجائے گا جبکہ صنعتکار کہتے ہیں کہ اس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجائے گا اور صنعتی شعبہ دباؤ کا شکار ہوگا۔ گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے بدھ کو پریس کانفرنس میں عبوری مالی پالیسی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں دو فیصد اضافہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا کیونکہ اگر یہ نہ کیا جاتا تو اس کے منفی اثرات زیادہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ افراط زر میں کمی نہیں ہو رہی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا اور اس سے صنعت متاثر ہوگی، اور افراط زر موجود شرح سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس وقت افراط زر پچیس فی صد ہے جب کہ بنیادی افراط زر21.7 فی صد ہو چکا ہے۔ ’ملک معاشی طور پرغیر معمولی صورتحال سے گذر رہا ہے اور گزشتہ تین چار ماہ سے اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پانچ ارب نوے کروڑ ڈالر رہا جس کا بڑا سبب عالمی غذائی قیمتوں میں گرانی اور تیل کا درآمدی بل ہے جو بڑھ کر چار ارب نوے کروڑ ڈالر ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑا اور وہ گھٹ کر چھ ارب نوے کروڑ ڈالر رہ گئے جو صرف نو ہفتے کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مرکزی بینک سے مزید قرضے نہ لینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں حکومت کے سٹیٹ بینک سے قرضے تین سو انہتر ملین تک جاپہنچے ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے ۔ لیکن پاکستان کے مسائل دیگر ممالک سے مختلف ہیں اور ہماری پالیسیاں بھی ان سے الگ ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شرح سود میں اضافے کے فیصلے سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرضے کے حصول میں آسانی ہوگی۔ تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے فائدہ بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں، مرکزی بینک سے حکومت جو قرضہ لے رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھ ملین ڈالر ہوگیا ہے، اور افراط زر بڑھ رہا ہے ان تینوں چیزوں کو کنٹرول کرنے میں یہ فیصلہ سود مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ان فوائد کے ساتھ اس فیصلے سے صنعتی شعبہ دباؤ کا شکار ہوگا، مجموعی شرح پیداوار میں کمی ہوگی اور کارپوریٹ سیکٹر کی شرح منافع پر بھی اثر پڑے گا۔ کراچی چیمبر کے سابق صدر مجید عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت کی مالی پالیسی ناکام ہوئی ہے اور شرح سود میں مزید دو فیصد اضافے سے معشیت پر منفی اثرات پڑیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں ، اس سے صنعت کار یہ سوچ رہے تھے کہ انہیں کچھ ریلیف ملے گا، اس وقت پیداواری لاگت کو برقرار رکھنے کے لیئے شرح سود کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اب صنعتکاروں کو بیس سے بائیس فیصد سود پر بینک رقم فراہم کریں گے، کیونکہ پندرہ فیصد ریٹ مقرر ہوگیا ہے۔ ’اس کے بعد بینک پانچ یا سات فیصد سروس چارج رکھیں گے، بینک کو اتنا دے کر کاوبار چلانا مشکل بن گیا ہے۔ اگر اتنے زیادہ سود پر بینک سے پیسے لے بھی لیئے تو ڈیفالٹ کا خطرہ ہے۔ اس وقت کسی خوشخبری کی ضرورت ہے جو مل نہیں رہی ہے۔‘ یاد رہے کہ سٹیٹ بینک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ سال کی ابتدا میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد مزید اضافہ کیا جائے گا، جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ابھی رکا ہوا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والا سال مزید مہنگائی اور معاشی بحران لیکر آئے گا۔ پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیئے دس ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ دوست ممالک سے امداد نہ ملنے کے بعد پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||