سٹاک مارکیٹ میں انجماد برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک مارکیٹ میں پیر کو حکومت کی یقین دہانی کے باوجود سرمائے کی عدم دستیابی کے باعث دو ماہ سے جاری انجماد ختم نہیں ہوسکا ہے۔ ابھی یہ نہیں پتہ کہ یہ صورت حال کب تک بر قرار رہے گی۔ اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو انجماد ختم کرنے کے بعد کاروبار معمول کے مطابق شروع ہونا تھا لیکن سرکاری اداروں کی جانب سے بیس ارب روپے کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے بعد مارکیٹ کو منجمد رکھنے کا فیصلہ اتوار کی رات کو ہی کرلیا گیا۔ ستائیس اگست کے بعد سے سٹاک مارکیٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سرکاری ادارے سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج آف پاکستان کے افسران کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے ہیں۔ سرکاری ادارے نے حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی تھی کہ مارکیٹ میں چار سرکاری اداروں یعنی ای او بی آئی، این آئی ٹی، این بی پی، اور سٹیٹ لائف کی جانب سے سٹاک مارکیٹ میں بیس ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک نے بھی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے چند مراعات دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کے لیے ان کے سرمائے کی گارنٹی دینے کی بھی تجویز زیرِ غور تھی تاکہ بیرونِ ملک سرمایہ کار اپنے سرمائے کا انخلاء فوری طور پر نہ کریں کیونکہ اس سے مارکیٹ میں زبردست گراوٹ کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے۔ ان تمام یقین دہانیوں کے بعد کراچی اسٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا تھا کہ ستائیس اکتوبر سے اسٹاک مارکیٹ میں انجماد کا خاتمہ کردیا جائے گا، تاہم اتوار کی رات تک سرمائے کی عدم دستیابی کے بعد کراچی اسٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی نے اس فیصلے کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے مارکیٹ میں انجماد کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ انجماد کے خاتمے کے لئے اب کسی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ سٹاک مارکیٹ اس سال فروری میں اپنے عروج پر تھا جب پندرہ ہزار سے زیادہ پوائنٹ پر کاروبار چل رہا تھا۔ لیکن پھر بتدریج مارکیٹ گرتی چلی گئی اور یہاں تک کہ جولائی میں چھوٹے سرمایہ کار اپنے سرمائے کو ڈوبتا دیکھ کر بلبلا اٹھے اور پرتشدد احتجاج پر اتر آئے جس کے بعد ستائیس اگست کو مندی پر قابو پانے کے لیے کاروبار کو نوہزار ایک سو چوالیس پوائنٹس پر منجمد کردیا گیا تھا۔ سٹاک مارکیٹ کی اونچ نیچ پر نظر رکھنے والے ظفر موتی مارکیٹ کو بند رکھنے کےفیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر مارکیٹ کو کھول دیا جاتا تو حصص کے کاروبار میں گراوٹ متوقع تھی اور اس سے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سپورٹ فنڈ جو حکومت نے اعلان کیا ہے مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوگا اس وقت تک کاروبارِ حصص دوبارہ شروع ہونے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کے لئے حکومت نے ’پُٹ آپشن‘ یعنی ان کے سرمائے کو گارنٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے حصص کو حکومت پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت خرید لے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی تو ہوچکی ہے تاہم ابھی اس بابت فارمولا طے ہونا باقی ہے۔ | اسی بارے میں حصص بازار: مندی کا رحجان جاری01 January, 2008 | پاکستان بازار حصص، انجماد ختم کرنے کی کوششیں جاری14 October, 2008 | پاکستان کراچی: سٹاک مارکیٹ میں مندی برقرار21 August, 2008 | پاکستان کراچی کی سٹاک مارکیٹ میں مندی20 August, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج میں استحکام18 August, 2008 | پاکستان سٹاک: افواہ سازوں کے خلاف کارروائی20 July, 2008 | صفحۂ اول سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||