BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی، بجلی کے بِلوں پر جزوی ہڑتال

بجلی
بجلی کے نرخوں میں ستر فیصد اضافہ واپس لیا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کی جائے: جماعت اسلامی
کراچی میں بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے جمعے کے روز ہڑتال کے اعلان پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آیا تاہم سرکاری اور نجی اداروں میں ممعولات زندگی جاری رہا اور سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں رہا۔

جماعت اسلامی نے شہر میں جاری لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بلوں میں ستر فیصد تک اضافے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کا الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشن اور طارق روڈ ٹریڈز ایکشن کمیٹی سمیت چھوٹے تاجروں کی دیگر تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال سے قبل جماعت اسلامی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں جے یو آئی، سنی تحریک، مسلم لیگ ن، ترقی پسند پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی تھی۔

عام طور پر جمعہ کے روز کراچی کے بازار جمعہ نماز کے بعد کھلتے ہیں۔ موبائل مارکیٹ، الیکٹرانک مارکیٹ، صدر بازار، زیب النساء اسٹریٹ، کلفٹن، لالو کھیت، لائٹ ہاؤس مکمل طور پر کھلے رہے جبکہ لیاقت مارکیٹ، زینب مارکیٹ، جامعہ کلاتھ، حیدری میں دکانیں جزوی طور بند رہیں۔ بولٹن مارکیٹ، جوڑیا بازار، جوبلی مارکیٹ، جہانگیر روڈ پر ہڑتال کا زور زیادہ دیکھنے میں آیا۔

جو بازار اور مارکٹیں کھلی ہوئی تھیں ان میں خریداروں کا رش نہ ہونے کے برابر تھا۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے شہر میں مجموعی طور مکمل اور پر امن ہڑتال رہی۔ کراچی کے امیر محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں ستر فیصد اضافہ واپس لیا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کی جائے بصورت دیگر اکتیس اکتوبر کو ملک بھر میں ہڑتال کی اپیل کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کا فیصلہ غلط ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منافع بخش ادارہ اب نقصان میں جارہا ہے اس لیے اسے حکومت اپنی تحویل میں واپس لے۔

ان کے مطابق لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی کئی صنعتیں بند ہوگئی ہیں اور باقی بند ہونے جا رہی ہیں۔ جس سے ہزاروں لوگ بیروزگار ہوں گے۔

دوسری جانب شہر کی سڑکوں پر پبلک اور پرائیوٹ ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق رہی۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹر غیر سیاسی لوگ ہیں۔ جب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وہ ہڑتال کرتے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں۔

موجودہ حکومت کے قیام کے بعد شہر میں پہلی مرتبہ ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت سے ملاقات کی تھی مگر انہوں نے اعلان واپس لینے سے انکار کردیا تھا۔

اسی بارے میں
بِل جب آئے لوگ بِلبلا اٹھے
22 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد