BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 22:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی وفد مقید ماہی گیروں سے نہیں مل سکا

بھارتی مچھیرے
بھارتی وفد پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی مچھیروں سے ملنا چاہتا تھا۔
’بہت دل میں درد لے کر ہم جا رہے ہیں۔ اگر ہمیں( جیلوں میں قید ماہی گیروں) سے ملنے دیا جاتا تو بہت ہی اچھا ہوتا۔۔۔ ہم ان کو ہمت دے سکتے تھے۔ کچھ تحفے تھے ان کے لئے وہ دے سکتے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ہو۔‘

ویلجی بھائی نے یہ الفاظ جمعرات کی شب وطن لوٹنے سے چند گھنٹے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہے۔

وہ آل گجرات فشرمین فاؤنڈیشن کے عہدیدار ہیں اور دس دن پہلے بھارتی ریاست گجرات کے ماہی گیروں کا ایک وفد لیکر پاکستان آئے تھے تاکہ کراچی سمیت صوبہ سندھ کی جیلوں میں قید چار سو سے زائد بھارتی ماہی گیروں سے مل سکیں اور پاکستانی اہلکاروں کی تحویل میں موجود ان کی کشتیوں اور دوسرے سازوسامان کی حالت کا جائزہ لے سکیں۔

 ’جب ہم یہاں آئے تو ہمیں ایم ایس اے کی طرف سے یہ کہا گیا کہ آپ کو صرف 140 کشتیاں دیکھنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہماری 379 کشتیاں ہیں تو (انہوں نے) کہا کہ باقی ہم نے بیچ ڈالی ہیں اور کچھ بحری طوفان میں ڈوب چکی ہیں
ویلجی بھائی

مگر انہیں تمام تر کوششوں کے باوجود قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

البتہ انہیں بھارتی ماہی گیروں سے قبضے میں لی گئی کشتیاں ضرور دکھائی گئیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ کشتیوں کے معائنے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ کئی کشتیاں نیلام کردی گئی ہیں۔

’جب ہم یہاں آئے تو ہمیں ایم ایس اے کی طرف سے یہ کہا گیا کہ آپ کو صرف 140 کشتیاں دیکھنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہماری 379 کشتیاں ہیں تو (انہوں نے) کہا کہ باقی ہم نے بیچ ڈالی ہیں اور کچھ بحری طوفان میں ڈوب چکی ہیں۔‘

ویلجی بھائی کے مطابق یہ بات میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز لیفٹیننٹ کمانڈر ایم طارق خان نے بھارتی وفد کو ان کشتیوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران بتائی تھی لیکن خود ایم طارق خان اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

’وہ تو ٹھیک ہے کہ 350 کشتیاں تھیں ہمارے پاس ان کی، لیکن آپ کو پتہ ہے کہ بیچ میں دو سائیکلون آئے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس 140 کے قریب بوٹس تھیں جو ہم نے ان کو دکھادیں۔ اب اگر انہوں نے یہ سوچ لیا ہے کہ باقی کی بوٹس ہم نے بیچ کر پیسے کھالئے ہیں تو یہ سچ نہیں ہے۔‘

ویلجی بھائی نے بتایا کہ جو کشتیاں انہیں دکھائی گئیں ان کی حالت بھی بہت خراب ہوچکی ہے۔

’وہ ساری کشتیاں بالکل کنڈم حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔ ان کے نیچے جو مشین لگی ہوتی ہے جال کھینچنے کے لئے، وہ بھی نکال لی گئی ہیں اور بہت ساری بوٹوں کے انجن بھی غائب ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ستر اسی کشتیاں ایسی ہیں جنہیں مرمت کراکے بحری سفر کے قابل بنایا جاسکتا ہے لیکن باقی کشتیوں کو اس قابل بنانے کے لئے لاکھوں روپے درکار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو بھارتی ماہی گیروں کے اس نقصان کا معاوضہ دینا چاہیے کیونکہ ایک کشتی کی تیاری پر بارہ سے پندرہ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس سے کم سے کم چار پانچ خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہوتی ہے۔

اس طرح ان کشتیوں کے نقصان سے کئی خاندان متاثر ہوں گے۔

 جو ہمارے پاکستانی فشر مین رہا ہوکر آئے تھے تو انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 1999ء کے سمندری طوفان کی زد میں آکر یہ ماہی گیر بھارت پہنچ گئے تھے ان کی بوٹس وغیرہ تباہ ہوگئی تھیں اور وہ آج بھی وہاں پر بند ہیں لیکن ان کی نہ بھارتی حکومت تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے ان کے حوالے سے کوشش کی ہے
محمد علی شاہ

لیکن لیفٹیننٹ کمانڈر ایم طارق خان اس مطالبے کو ناقابل فہم سمجھتے ہیں۔
’ آپ یہ دیکھیں کہ ایک تو یہ ماہی گیر پاکستانی حدود میں مچھلی چوری کرنے آئے تھے اور اب اگر ایک قدرتی آفت کی وجہ سے ان کی کشتیاں ڈوب گئیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس کا معاوضہ دیں تو یہ تو سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔‘

میں ان کشتیوں کی حالت دیکھنے کے لئے کیماڑی پہنچا تو پتہ چلا کہ یہ کشتیاں سمندر کے اندر ایک جزیرے کے قریب کھڑی کی گئی ہیں جو ایک ممنوعہ علاقہ ہے۔

کیماڑی پر قائم ایم ایس اے کے دفتر پہنچا تو وہاں موجود اہلکاروں نے اس مقام پر جانے کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اس کے لئے انہیں اپنے حکام بالا سے اجازت لینا ہوگی۔

سرحد کے اس پار بھارتی جیلوں میں پاکستانی ماہی گیر بھی قید ہیں اور ان کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔

لیفٹیننٹ کمانڈر ایم طارق خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق بھارتی جیلوں میں 55 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں جن کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا ہے۔

’ان کو وکیل تک رسائی نہیں دی جاتی اور ان پر وہاں کافی ٹارچر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جو لوگ واپس آتے ہیں ان میں زیادہ تر نفسیاتی مریض بن چکے ہوتے ہیں۔‘

محمد علی شاہ پاکستانی ماہی گیروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں پچاس سے زیادہ ایسے پاکستانی ماہی گیر بھی ہیں جن کی گرفتاری کی بھارتی حکام تصدیق نہیں کرتے۔

’جو ہمارے پاکستانی فشر مین رہا ہوکر آئے تھے تو انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 1999ء کے سمندری طوفان کی زد میں آکر یہ ماہی گیر بھارت پہنچ گئے تھے ان کی بوٹس وغیرہ تباہ ہوگئی تھیں اور وہ آج بھی وہاں پر بند ہیں لیکن ان کی نہ بھارتی حکومت تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے ان کے حوالے سے کوشش کی ہے۔‘

محمد علی شاہ نے بتایا کہ بارہ تیرہ پاکستانی مچھیرے ایسے بھی ہیں جنہوں نے بھارتی جیلوں سے اپنے گھر والوں کو بھیجے گئے خطوط میں بتایا ہے کہ وہ اپنی سزا کاٹ چکے ہیں لیکن انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔

دونوں پڑوسی ملکوں میں سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر سب سے زیادہ ماہی گیر ہی گرفتار ہوتے ہیں۔

ویلجی بھائی کے بقول پاکستان اور بھارت پچھلے چار سالوں سے امن مذاکرات میں مصروف ہونے کے باوجود اب تک مچھیروں کو یہ احساس نہیں دلا پائے ہیں کہ وہ امن اور چین چاہتے ہیں۔

’میں نے یہاں سنا کہ ٹریڈ کے لئے کشمیر کا ایک اور راستہ کھول دیا گیا ہے تو جب اتنی بڑی باتیں ہوتی ہیں تواس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ماہی گیروں کو ان کے وطن پہنچانا، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا وغیرہ۔۔۔ان کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کیوں ہوتی ہے۔‘

دونوں طرف کے مچھیروں کے نمائندوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ماہی گیروں کو گرفتار کرنے کی بجائے وارننگ دیکر یا جرمانہ وصول کرکے چھوڑ دیا جائے۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ ان کی یہ بات کب سنی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
سولہ بھارتی ماہی گیرگرفتار
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد