BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2008, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہریوں پر ہند پاک مفاہمت

غلطی سے سرحد پارکرنے والے افراد کو وطن واپسی کے لمبے اور تکلیف دہ عمل سے گزارنے کے بجائے باڈر سے ہی فوری واپس کر دیا جائے
پاکستان رینجرز اور انڈیا کی باڈر سکیورٹی فورس کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے میں طے پایا ہے کہ دونوں ملک غلطی سے سرحد عبور کرنے والے ایک دوسرے کے شہریوں کو چوبیس گھنٹے کے اندر واپس کریں گے۔

یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے بعد طے پایا۔ ان مذاکرات کے لیے بھارت کی باڈر سکیورٹی فورس کے ایڈیشنل آئی جی یو کے بنسال کی سربراہی میں بی ایس ایف کا وفد واہگہ کے راستے لاہور آیا تھا۔

لاہور کے ریجنرز ہیڈکواٹر میں دونوں اطراف کے حکام نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کےبعد میڈیا کو بریفنگ دی گئی۔

لاہور کے رینجرز ہیڈکواٹر میں ڈی جی ریجنرز محمدیعقوب اور بی ایس ایف کے ایڈیشنل آئی جی یوکے بنسال نے ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ سرحدی خلاف ورزیوں کی سب سے زیادہ غلطیاں سمندری حدود میں ہوتی ہیں اس لیے گرفتاری سے پہلے ماہی گیروں کو وارننگ دینے کا نظام بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سمندری حدود میں دونوں ملکوں کے سکیورٹی حکام موجود ہونگے جو ماہی گیروں کو متنبہ کریں گے۔ دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سرحد پر کوئی ایسی دفاعی یا کسی بھی نوعیت کی تعمیرات نہیں کی جائیں گی جو پہلے سے آپس میں طے نہ کی گئی ہوں۔

ڈی جی رینجرز پاکستان محمد یعقوب نے کہا کہ حتمی فیصلہ ہونے تک بھارت سرحد پر برجیوں کی تعمیر روک دے گا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے حکام نے ایک دوسرے پر ورکنگ باؤنڈری اور بین الاقوامی سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزی کے الزام لگائے تاہم اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے سیز فائر پر سختی سے عملدرآمد کیاجائےگا اور سرحد پر تعینات دونوں طرف کے فوجیوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ایسی فائرنگ سے باز رہیں جس سے عام شہریوں کی زندگی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔

انڈین وفد کے سرابراہ یوکے بنسال نے کہا کہ انہوں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی چوکیوں کی مرمت اور تعمیر کا کام جلد مکمل کرلے تاکہ منشیات اور دیگر سمگنگ کو روکا جاسکے۔

اس موقع پر دونوں ملکوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ڈی ی جی ریجنرز نے بتایا کہ پاکستان نے ایک سو اٹھاسی افراد کے فہرست بی ایس ایف کے حوالے کی ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کےسرحدی محافظ کوشش کریں گےکہ غلطی سے سرحد پارکرنے والے افراد کو وطن واپسی کے لمبے اور تکلیف دہ عمل سے گزارنے کے بجائے باڈر سے ہی فوری واپس کر دیا جائے۔

دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان اس طرح کے مذاکرات ششماہی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور یہ اعتماد سازی کے اقدامات کا ایک حصہ ہیں۔

پاکستانی میجرجنرل محمد یقوب اور انڈین ایڈیشنل آئی جی یوکے بنسال نے تین روزہ مذاکرات کو تسلی بخش قراردیا اور کہا کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور اس دوران اس بات پر اتفاق رہا کہ دونوں ملک ایسے اقدام کریں کہ دونوں ملکوں کی جیلوں کے قیدیوں اور ان کے لواحقین کی پریشانی اور تکلیفوں کو کم کیا جائے۔

اسی بارے میں
بگھلیہار بھر گیا، چناب خشک
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد