BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2008, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ماہی گیروں کا وفد پاکستان میں

بھارتی مچھیرے
بھارتی وفد پاکستانی جیلوں میں قید 434 بھارتی مچھیروں سے ملےگا
پاکستان میں قید بھارتی ماہی گیروں کی رہائی اور ضبط کی گئی کشتیوں کی واپسی پر بات چیت کے لیے بھارتی ماہی گیروں کا ایک وفد کراچی پہنچ گیا ہے۔

بھارتی ماہی گیروں کا سات رکنی وفد آل گجرات فشرمین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نائب صدر ویلجی بھائی مسانی کی قیادت میں اتوار کی شب کراچی پہنچا۔

پاکستانی حکومت کی دعوت پر آنے والا یہ وفد بھارتی قیدیوں سے ملاقات کرے گا اور ان کی کشتیوں کی واپسی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مذاکرات کرے گا۔

ویلجی بھائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اعلان کیا تھا کہ بھارتی ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کو رہا کیا جائے گا۔ جس کے بعد انہیں ایک خط بھی وصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیس اکتوبر سے پہلے آ کر اپنی کشتیوں کو دیکھ لیں کہ یہ کتنے عرصے میں قابل استعمال بنائی جاسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تین سو اٹھہتر کشتیاں پاکستان کی تحویل میں ہیں جو پانچ سال سے واپس نہیں کی گئیں ہیں جبکہ ایک کشتی کی مالیت بارہ سے پندرہ لاکھ روپے ہے۔

ویلجی بھائی کے مطابق وہ پاکستان کی جیلوں میں قید چار سو چونتیس بھارتی ماہی گیروں سے ملاقات کریں گے۔ پاکستانی حکومت بھارتی قیدیوں کی تعداد ساڑھے تین سو بتاتی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان حکومت سے رابطے میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ منگل کو انہیں کشتیوں کے معائنے کی اجازت مل جائے اس کے بعد وہ اندازہ لگائیں گے کہ یہ کشتیاں کتنے روز میں قابلِ استعمال حالت میں آ سکتی ہیں۔

پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’مچھیرے بنجاروں کی طرح ادھر اوھر مچھلی پکڑنے کے لیے چکر لگاتے ہیں اور اسی دوران رات کو کبھی کبھار وہ بھول کر پاکستان کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں مگر یہ ماہی گیر کبھی کسی تخریب کاری یا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث نہیں رہے‘۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں حکومتوں کو مل کر ماہی گیروں کے لیے ایک فری زون بنانا چاہیے جہاں انہیں مچھلی پکڑنے کی اجازت دے دی جائے۔

ویلجی بھائی نے بھارتی جیلوں میں پاکستان کے ماہی گیروں پر تشدد کے الزامات کو رد کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم کی طرف سے وہ ان سے ملاقات کرتے رہے ہیں مگر ان سے کبھی بھی یہ شکایت نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس وفد کی آمد سے قبل پاکستان کے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک وفد بھی بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں سے مذاکرات کرچکا ہے۔

اسی بارے میں
سولہ بھارتی ماہی گیرگرفتار
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد