واہگہ: پاکستانیوں کی لاشیں حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے قریب واہگہ باڈر پر اس ادھیڑ عمر خاتون اور نوجوان لڑکےکی لاشیں پاکستان حکام کے حوالے کردی گئی ہیں جو دو مختلف ہندوستانی جیلوں میں ہلاک ہوئے۔ چار ماہ کے دوران ہندوستان سے چار ایسے افراد کی لاشیں پاکستان بھجوائی گئی ہیں جو وہاں جیلوں میں ہلاک ہوئے۔ جمعہ کی صبح جن دو افراد کی لاشیں سرحد پار سے وصول کی گئیں ان میں سے ایک گوجرانوالہ کی خاتون رشیدہ بیگم کی ہے اور دوسری سندھ کے شہر بدین کے رہائشی عبدالعلیم کی ہے۔ دونوں کے ورثاء جمعہ کی صبح لاشیں وصول کرنے کے لیے واہگہ باڈر پہنچ گئے تھے۔ بدین کے رہائشی محمد سلیم نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا بائیس سالہ بھائی سنہ دو ہزار ایک میں نوکری کی تلاش میں کراچی گیا بعد میں خود اس کے خط کے ذریعے اطلاع ملی کہ وہ غلطی سے ہندوستان کی سرحد پار کرگیا تھا اور راجستھان میں اسے گرفتار کرکے جودھ پور جیل میں قید کیا گیا ہے۔
محمد سلیم نے کہا کہ انہوں نے اس کی رہائی کے لیے بے حد کوششیں کیں جو ناکام رہیں۔ اس دوران عبدالعلیم کے خطوط وصول ہوتے رہے جس میں وہ بتاتا تھا اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دومہینے پہلے عبدالعلیم کاجو خط ملا اس میں انہوں نے کہا تھا اسے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسے بچا لیاجائے ورنہ وہ مر جائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ اس نے فون پر بھی یہی بات بتائی۔اب سے تقریباً ایک ماہ محمد سلیم نے کہا کہ ایک ماہ کی کوششوں کے بعد وہ اپنے بھائی کی لاش واپس منگوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عبدالعلیم کی میت کے ڈیڑھ دوگھنٹے کے بعدگوجرانوالہ کی ساٹھ سالہ رشیدہ بی بی کی لاش بھی پاکستان کے حوالے کردی گئی۔ رشیدہ بی بی کے بیٹے محمد شفیق نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی والدہ دو برس پہلے اپنی دوجوان بیٹیوں اور محلہ دار خاتون کے ہمراہ رشتہ داروں کو ملنے کے لیے ہندوستان گئی تھیں بعد میں اطلاع ملی کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ رشیدہ بی بی پر سمگلنگ کا الزام بتایا جاتا ہے۔ وہ امرتسر جیل میں قید تھیں۔ ان کی دوبیٹیاں فاطمہ اور ممتاز بھی جیل میں قید ہیں۔ ان میں سے ایک گرفتاری کے وقت حاملہ تھیں اور جیل میں ہی انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا۔ محمد شفیق نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی جوان بہنوں کو رہائی دلوائی جائے۔ محمد شفیق کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا کہ ان کی والدہ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئی ہیں لیکن انہیں شبہ ہے کہ وہ نامناسب خوراک اور ذہنی و جسمانی تشدد کی وجہ سے جاں بحق ہوئی ہیں۔ دونوں کے ورثاء نے واہگہ باڈر پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ہندوستان کے خلاف نعرے درج تھے۔ ایک بینر پر لکھا تھا کہ پاکستانیوں کی لاشوں کے بدلے ہندوستانی جاسوسوں اور ’دہشت گردوں‘ کو کب تک چھوڑتے رہیں گے۔ ایک دوسرے بینر پر لکھا تھا کہ ’سربجیت سنگھ کو پھانسی دیکر اس کی لاش بھارت بھجوائی جائے۔‘ رشیدہ بیگم وہ چوتھی پاکستانی قیدی ہیں جس کی لاش چار ماہ کے عرصےمیں انڈیا سے پاکستان بھجوائی گئی ہے۔مارچ میں خالد محمود اور مئی میں فیصل آباد سمندری کے محمد اکرم کی لاشیں مل چکی ہیں۔ اسی عرصہ کے دوران پاکستان کی جیل میں قید ایک ہندوستانی مچھیرے کی لاش انڈیا بھجوائی جاچکی ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان ایک دوسرے کے قید شہریوں کی رہائی کا معاملہ زیر غور ہے اور اس سلسلے میں قیدیوں کی ابتدائی فہرستوں کا تبادلہ بھی عمل میں آچکا ہے۔ | اسی بارے میں ماہی گیر قیدی بھارت کے حوالے10 January, 2007 | پاکستان پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان کشمیری لاش بھارتی حکام کے حوالے04 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||