ماہی گیر قیدی بھارت کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے اپنے ہاں قید ایک سو پندرہ بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر کے بھارت کے حوالے کردیاہے۔ کراچی سے لاہور پہنچنے والے بھارتی ماہی گیروں کو بدھ کی شام گئے لاہور اور امرتسر کے درمیان سرحدی چوکی واہگہ کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالہ کیاگیا۔ اس موقع پر موجود دونوں ملکوں کے حکام کے مطابق دونوں طرف کی جیلوں میں اب بھی ایک دوسرے کے چار سو سے زیادہ افراد قید ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار غلام محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان نے پانچ ہزار دو سو بائیس قیدیوں کو بھارت کے حوالہ کیا ہے جبکہ بھارت نے اس عرصہ میں سات سو تیرہ قیدیوں کو پاکستان کے حوالہ کیا ہے۔ غلام محمد نے کہا کہ اس وقت بھارت کی جیلوں میں چار سو چوالیس پاکستانی قید ہیں جن میں سے چار سو نو عام شہری ہیں اور بتیس ماہی گیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھارت میں قید دو سو پاکستانی قیدیوں کے کاغذات بھیج چکا ہے لیکن ان میں سے اب تک صرف انیس لوگوں کو رہا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ رہا نہ کیے جانے والے باقی پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات مہیا کرے۔ واہگہ پر موجود بھارتی ہائی کمیشن کے ایک عہدیدار سمن کول نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ سال نومبر میں بھارت نے اپنے چار سو انسٹھ قیدیوں کی فہرست پاکستان کو دی تھی جن میں سے تقریبا ساڑھے چار سو افراد ماہی گیر ہیں۔ سمن کول نے کہا کہ آج رہا ہوکر بھارت جانے والے قیدیوں کے بعد بھی پاکستان کی جیلوں میں دو سو چوہتر بھارتی قیدی موجود ہیں۔ نومبر سنہ دو ہزار چھ میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان کیے گئے ایک معاہدہ کے مطابق ایسے قیدی جو اپنی مدت سزا مکمل کرچکے ہیں اور ان کی شہریت کی تصدیق ہوگئی ہے انہیں دونوں ملک ایک دوسرے کے حوالے کردیں گے۔ | اسی بارے میں چھ پاکستانی ماہی گیر گرفتار 30 December, 2006 | انڈیا چھ پاکستانی مچھیرے گرفتار 22 July, 2006 | انڈیا پولیس فائرنگ میں ماہی گیر ہلاک27 March, 2006 | انڈیا ریکارڈ تعداد میں انڈین مچھیرے رہا22 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||