بگھلیہار بھر گیا، چناب خشک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام کا کہناہے کہ بھارت کے بگھلیہار ڈیم بھرنے سے برسات کے موسم میں بھی دریائے چناب کا پانی خشک ہوگیا ہے اور پاکستان نےڈیم بھرنے کے طریقہ کار پر ہندوستانی حکام سے احتجاج کیا ہے۔ پاکستانی کمشنر سندھ طاس جماعت علی شاہ نے کہا کہ اگر ہندوستان حکام انہیں مطمئین نہ کرسکے تو وہ پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کریں گے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان یہ تنازعہ بگھلیہار ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس میں پانی کا ابتدائی ذخیرہ کرنے پر کھڑا ہوا ہے۔ جماعت علی شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت اکتیس اگست تک چناب کا پانی صرف اس حد تک روک سکتا تھا کہ پاکستان کو بھی پچپن ہزار کیوسک فٹ پانی ملتا رہے لیکن ان کے بقول ایسا نہیں ہوا۔ انہو ں نے کہا کہ بائیس اگست کو ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی صرف بیس ہزار کیوسک فٹ تھا اور شکایت کے باوجود کمی مسلسل جاری رہی۔ انہو ں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اکتیس اگست کو پانی کی بندش ختم ہوجانی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ تاریخ کے بعد بھی دریائے چناب کا پانی مسلسل روکا جا رہا ہے۔ جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت اگرچہ ہندوستان اکتیس اگست کے بعد بھی ذخیرہ کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے پاکستان سے تاریخوں کا اتفاق ضروری تھا لیکن ہندوستان نے کوئی رابط کیے بغیر چناب کے پانی کا اپنے پاس ذخیرہ جاری رکھا ہے۔ پاکستانی کمشنر سندھ طاس نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمشنر کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے جبکہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی وزارت خارجہ میں اس مسئلہ کو اٹھایا ہے۔ ان کےبقول بھارت نے ایک روز کے اندر اس کا تفصیلی جواب دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ بھارتی حکام پاکستانی ماہرین کو بگھلیہار ڈیم کا معائنہ کرنے کی اجازت دیں اور انہیں مطمئن کریں۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ اگر ہندوستان پاکستانی ماہرین کو مطمئن نہیں کر سکے گا تو اسے اپنی غلطی ماننی پڑے گی جس پر وہ تلافی یا ہرجانہ کا دعویٰ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہرجانہ رقم کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور دوسرے کسی دریا میں پانی چھوڑے جانے کی شکل میں بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی کمشنر سندھ طاس کے اندازے کے مطابق ہندوستان کے اس اقدام سے اب تک پاکستان کو دو ملین ایکٹر فٹ پانی کا نقصان ہوچکاہے جس کا برا اثر فصلوں پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بالواسطہ اثرات بھی سامنے آئیں گے کیونکہ پاکستان نے فصلوں کی موجودہ ضرورت پوری کرنے کے لیے منگلا کا پانی چھوڑا تھا اور اب ربیع کی فصل کے لیے پانی کم رہے گا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کے پانی پر ہندوستان کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے جبکہ چناب، جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کو دیا گیا۔ جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان ان تینوں دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو استعمال کرنے کی حد تک ڈیم بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کو بگھلیہار ڈیم کے ڈیزائن پر اعتراض تھا جو ورلڈ بنک کے مقرر کردہ ثالث نے درست تسلیم کیا تھا۔ واضح رہے کہ بگھلیہار ڈیم کی تعمیر سنہ دو ہزار میں شروع ہوئی تھی۔ دریائے چناب پر بننے والا یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کا سبب رہا ہے۔ پاکستانی کمشنر نے کہا کہ اس سے پہلے سنہ انیس سو اٹہتر میں بھارت نے ایک ڈیم بنایا تھا اور اس کے ابتدائی ذخیرے کے لیے پاکستان سے اجازت طلب کی تھی۔ پاکستان نے اعتراض لگائے جو بھارت نے دور کیے جس کے بعد ابتدائی ذخیرہ یا ڈیڈ ریزرو حاصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا اس دور میں بعد میں بھارت نے پاکستان کو شکریے کا خط بھی لکھا تھا لیکن اس بار کوئی اجازت یا نوٹس لیے بغیر چناب کا پانی روک لیا گیا جس کا ان کے بقول بھارت کو کوئی حق نہیں تھا۔ دوسری طرف ہندوستان کے ہائی کمشنر نے پیر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کے دفتر جا کر سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یہ تنازعہ بھی زیر بحث آیا۔ مسلم لیگی رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ انڈین ہائی کشمنر نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی تردید کی ہے۔ راجہ ظفر الحق نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ وہ بھارت کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کرتے تاہم ان کے بقول اس کے ذمہ دار سابق پاکستانی حکومت بھی ہے جس نے بھارت کو بگھلیار ڈیم بنانے کی اجازت دی۔ | اسی بارے میں سمندر برد ہوتے ساحلی قصبے04 August, 2007 | پاکستان ’بگلیہار ثالثی سندھ طاس کے مطابق نہیں‘ 17 February, 2007 | پاکستان ’بگلیہار پر ثالث کا فیصلہ قبول نہیں‘15 February, 2007 | پاکستان وولر بیراج: پاک انڈیا مذاکرات 22 June, 2006 | پاکستان وولر بیراج پر مذاکرات شروع22 June, 2006 | پاکستان پاکستان: پانی کے مسائل کا خطرہ15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||