سمندر برد ہوتے ساحلی قصبے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیٹی بندر ایک زمانے میں دریائے سندھ کے علاقے کی ایک اہم بندرگاہ ہوا کرتی تھی جہاں سرکاری عمارتیں، محکمۂ کسٹمز کے دفاتر اور درآمدکنندگان کےگودام واقع تھے لیکن آج یہ علاقہ بمشکل پانی کے اوپر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ سمندر کی لہریں تین اطراف سے شہر کے حفاظتی بندوں سے ٹکرا رہی ہیں اور صرف ایک پتلی سی دو کلومیٹر لمبی خاکنائے ہی اسے خشکی سے ملانے کا ذریعہ ہے۔ سمندر کے پانی کا لیول اونچا ہوتا جا رہا ہے اور دو برس قبل تک مدو جزر کے زمانے میں قصبے کے نواح میں واقع رائس مل کے جن کھنڈرات تک کبھی پانی آتا تھا وہ آج مکمل طور پر سمندر برد ہو چکے ہیں۔ کیٹی بندر کے مقامی ملاح بچل خانیجو کا کہنا ہے کہ’ لہروں کی اونچائی کم ہو گی لیکن یہ یقیناً زیادہ قوت سے واپس آئیں گی۔ مزید دو سال اور ہیں اور پھر یہ سارا قصبہ زیرِ آب آ جائے گا‘۔ کیٹی بندر کو بچانے کے لیے تو شاید ابھی وقت باقی ہے لیکن کیٹی سے بیس منٹ کی دوری پر واقع کھارو چھان نامی قصبے کے پاس بچاؤ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ایک مقامی کسان عبداللہ کے مطابق’1946 میں یہ علاقہ خشکی سے جڑا ہوا تھا لیکن اب یہ جزیرے کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اب یہاں پہنچنے کے لیے کشتی میں تیس منٹ سفر کرنا پڑتا ہے‘۔
اس علاقے میں ایک خوشحال ماضی کی نشانیاں اب بھی نظر آتی ہیں۔ ان میں سے ایک اس بنگلے کے کھنڈرات ہیں جو علاقے کے ہندو نمبردار کی ملکیت تھا۔ لیکن آج اس جزیرے پر جو بچا ہے وہ ہیں مچھیروں کی چند سو جھونپڑیاں۔ کیٹی اور کھارو چھان دونوں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے کے اہم قصبات رہ چکے ہیں اورگزشتہ صدیوں میں بحیرۂ عرب میں گرنے والے دریائے سندھ نے اس علاقے میں سترہ بڑی اور چھوٹی کھاڑیاں تشکیل دے دی ہیں۔ ان کھاڑیوں کے درمیان موجود دریا کی لائی گئی زرخیز مٹی کی وجہ سے یہ علاقہ صوبہ سندھ کے زرخیز ترین علاقے کے طور پر جانا جاتا رہا ہے اور 1935 تک مال بردار کشتیاں اوچٹ کھاڑی سے کیٹی بندر تک سفر کرتی تھیں جہاں سے وہ مشرقِ وسطٰی کو درآمد کیا جانے والا حاصل کرتی تھیں۔ تاہم آنے والے عشروں میں ایک اہم تبدیلی کے اثرات اس پورے علاقے پر نظر آنے لگے۔ سابق سینیٹر اور پانی کے امور کے ماہر عبدالماجد قاضی کے مطابق’ یہ اس وقت ہوا پنجاب میں بنائے جانے والے نظامِ آبپاشی نے سندھ اور اس کے چار ذیلی دریاؤں کا پانی کھینچنا شروع کر دیا‘۔ پنجاب میں دریائے سندھ سے پہلی اہم نہر1859 میں انگریزوں نے نکالی تھی۔ 1855 سے 1914 کے عرصے کے درمیان مزید پانچ نہریں نکالی گئیں جبکہ صوبہ سندھ میں 1932 سے 1962 کے درمیان تین بیراج تعمیر کیےگئے۔ 1960 میں سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے دو معاون دریاؤں کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کر لیا گیا جبکہ باقی دریاؤں پر دو بڑے ڈیم اور صوبہ پنجاب کو پانی کی فراہمی کے لیے ایک اور نہری نظام بنا لیا گیا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ ماہرین اس نظریے کو قبول نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ اسّی کے عشرے سے پنجاب کے کسان دریائے سندھ پر ایک اور ڈیم کی تعمیر کی مہم چلا رہے ہیں لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی مشکلات کا تعلق براہِ راست زراعت کے لیے پانی کے استعمال سے ہے۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ دریائی پانی کے بہاؤ میں جیسے جیسے کمی آئی سمندر کا پانی ڈیلٹا کی کھاڑیوں اور آبی گزرگاہوں میں بھرتا چلا گیا اور یہ زرخیز زمین سلیٹی صحرا میں بدل گئی۔ سمندر کے پانی نے نہ صرف ایک وسیع علاقے کو بنجر کر دیا بلکہ وہاں اگنے والے منگروو جنگلات کو بھی تباہ کر دیا۔ صوبہ سندھ کے وزیرِ آبپاشی اکمل لغاری کا کہنا ہے ’سنہ 1970 کے بعد سے ڈیلٹا کے ایک اعشاریہ تین ملین ایکڑ علاقے پر پھیلی ایک سو ساٹھ سے زائد آبادیاں سمندر کی نذر ہو چکی ہیں‘۔ اس علاقے میں رہائش پذیر افراد کے مطابق یہاں اب یا تو وہ لوگ ہیں جو اتنے غریب ہیں کہ کہیں اور نہیں جا سکتے یا پھر اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کھارو چھان کے اسّی سالہ لوہار ابراہیم سومرو بھی ایسے ہی ایک شخص ہیں۔ ان کے مطابق’ مجھے وہ وقت یاد ہے جب یہ علاقہ ایک سرسبز جنت کی مانند تھا۔ پھر یہاں تبدیلی آنے لگی اور ہمارے اردگرد نمکین پانی بھرنے لگا۔ ابتداء میں ہم نے سوچا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے لیکنپھر ہم اس کے عاادی ہوتے چلے گئے‘۔ | اسی بارے میں کراچی میں مردہ مچھلیاں اور تعفن29 July, 2007 | پاکستان پاکستان:’سنگین‘ موسمیاتی تبدیلیاں11 June, 2007 | پاکستان ’منجمد آبی ذخائر پگھل رہے ہیں‘10 June, 2007 | پاکستان گوادر! کونسا گوادر؟22 March, 2007 | پاکستان جزائر کا قضیہ: ماہی گیروں کا احتجاج10 January, 2007 | پاکستان حکومت کی تلخیوں کا شکار ماہی گیر20 November, 2006 | پاکستان جزائر کے حق ملکیت پر تنازعہ29 October, 2006 | پاکستان نیا دبئی اور ماہیگروں کے خواب05 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||