کراچی میں مردہ مچھلیاں اور تعفن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ساحل پر گزشتہ شب لا تعداد مردہ مچھلیوں کی آمد سے طویل ساحلی پٹی پر شدید تعفن پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور ہوٹلوں میں مقیم لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ کیماڑی سے سی ویو کلفٹن تک کی لگ بھگ دس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر لاتعداد چھوٹی چھوٹی مردہ مچھلیاں پڑی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کی موت کے بارے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے میرین پولیشن کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے منیجر راشد یحییٰ عثمانی کہتے ہیں کہ یہ مچھلیاں تین چار دن پہلے کی مری ہوئی ہیں اور غالباً مچھلیاں پکڑنے والے کسی جہاز سے پھینکی گئی ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا: ’فشنگ ٹرالرز کا عملہ ایسی مچھلیاں بھی سٹور کرلیتا ہے جو پولٹری فیڈ تیار کرنے والے خریدتے ہیں۔ دراصل تجارتی اعتبار سے ان مچھلیوں کی بہت ہی کم اہمیت ہوتی ہے جب کسی فشنگ ٹرالر کو اس سے زیادہ مہنگی مچھلیاں مل جاتی ہیں تو وہ ان مچھلیوں کے سٹاک کو غیرقانونی طور پر پانی میں پھینک دیتا ہے۔ ابھی ہمارا اندازہ یہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرالر غیرملکی بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں مچھلیاں مردہ حالت میں سمندر میں پھینکنا کسی بڑے ٹرالر کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ حکام یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مچھلیوں کی ہلاکت کا سبب وہ کیمیکل بھی ہو سکتا ہے جو بندرگاہ پر لنگر انداز کسی جہاز نے اپنے ٹینکر کی صفائی کرتے ہوئے سمندر میں بہا دیا ہو۔
راشد یحییٰ عثمانی کے مطابق مردہ مچھلیوں کے نمونے تجزیے کے لیے کراچی میں ہی واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کی لیبارٹری بھجوا دیےگئے ہیں تاکہ مچھلیوں کی موت کے سبب کا تعین کیا جا سکے۔ ان کے مطابق چھوٹی مچھلیوں کا شکار قانوناً جرم ہے اور اتنی بڑی تعداد میں ان کا شکار کرنے کے بعد مردہ حالت میں انہیں سمندر میں پھینک دینا ایک اور جرم۔ راشد یحییٰ عثمانی کہتے ہیں کہ ’سمندر میں مردہ مچھلیاں پھینکنا جرم ہے اور کے پی ٹی ایکٹ کے سیکشن 90 کے تحت میں ملوث افراد پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے لیکن کوئی بھی قانونی کارروائی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب پولیوٹر (آلودگی پھیلانے والے) کا پتہ چل جائے۔ ہم نامعلوم افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے‘۔
مردہ مچھلیوں کے تعفن سے ساحل پر واقع ہوٹلوں کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ ایک مقامی ہوٹل کے منیجر آسٹن سرویا بتاتے ہیں کہ ’ کل رات سے ہزاروں بلکہ لاکھوں مردہ مچھلیاں ساحل پر پڑی ہیں یا ساحلی پانی میں تیر رہی ہیں اس سے بڑی بدبو اُٹھ رہی ہے جس سے پورا علاقہ متاثر ہے۔ ساحل پر واقع ہمارے ریسٹورنٹ میں جن تقریبات کی بکنگ ہے ہمیں ان کے لیے متبادل بندوبست کرنا پڑ رہا ہے اور ہمارے ہوٹل میں قیام پذیر لوگ بھی ہوٹل چھوڑ کر جا رہے ہیں‘۔ بقائے ماحول کے لیے حکومت سندھ کے ادارے انوائرنمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کی ایک ٹیم نے بھی اتوار کو ساحل کا دورہ کرکے مردہ مچھلیوں کا معائنہ کیا اور ان کے نمونے حاصل کیے۔ اس ٹیم کے سربراہ اشفاق حسین پیرزادہ کا کہنا ہے کہ اگر مچھلیوں کی موت کسی زہریلے مادے سے واقع ہوئی تو مردہ مچھلیوں کے گلنے سڑنے کے نتیجے میں صحت کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’ہم نے مری ہوئی مچھلیوں اور پانی کے نمونے لیے ہیں اب ان کا بائیولوجیکل اور کیمیکل تجزیہ لیبارٹری میں ہونا ہے اسکے بعد ہی ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ واقع کسی ٹاکسک (زہریلی) آلودگی کا نتیجہ ہے تو یقیناً اسکے منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں اور مقامی آبادی میں جلد اور آنکھوں کے امراض پھیل سکتے ہیں‘۔ کے پی ٹی کے عملے نے ساحل کی صفائی کا کام شروع کردیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل کل شام تک مکمل کرلیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||