مچھلی، جھگڑے اور گجرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے میاں کو مچھلی کی بو سے شدید چڑ ہے۔ شادی کے بعد صرف ایک دفعہ لاعلمی کے باعث کوتاہی ہوئی تھی۔ پھر میں نے توبہ کر لی کیوں کہ میرے مچھلی پکانے پر کمال اتنا مچلے کہ پڑوسیوں کو بڑا مزہ آیا۔ کمال ویسے پرفیوم کو بھی بدبو کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ لہسن ادرک کی بو، زیرے کا بھگار، سرکے اور وغیرہ وغیرہ کو سات پردوں میں رکھنا پڑتا ہے۔ پیچیدہ اور پوشیدہ بیماریوں کی طرح تاکہ ازدواجی جھگڑوں سے گھروالے محفوظ رہیں اور محلے والے محظوظ نہ ہونے پائیں۔ لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی مشکل وقت آن ہی پڑتا ہے۔ ایک دن ساڑھے سات بجے شام کو ایک میٹنگ بھگتا کر میں کلائنٹ کے آفس سے گھر جا رہی تھی جب مصالحہ دار فرائیڈ فش کی خوشبو نے ایسا انتشار پیدا کیا کہ بن پانی کی مچھلی والی حالت ہونے لگی۔ اسے جب تک آدھا کلو مچھلی کی خریداری میں نہ بدل لیا مجھے چین نہ آیا۔ سوچا میں اور بچے چھپ چھپا کر کھا ہی لیں گے اور ائیر فریشنر کی پوری بوتل جائے وقوعہ پر خرچ کر کے اپنی جان بچا لیں گے۔ مگر کم بخت گاڑی کا کیا ہو گا جس میں صبح کمال کو آفس جانا تھا۔ گرمی اپنی عروج پر ہونے کی وجہ سے ائیرکنڈیشننگ بھی آن تھی اور مچھلی کی خوشبو پکار پکار کر کسی مصیبت کو آوازیں دے رہی تھی۔ اچانک ایک گجرے بیچنے والا نظر اگیا اور کافی حیران ہوا کہ ایک عورت اپنے لیے اکٹھے چار گجرے خرید رہی ہے۔ گجرے گاڑی میں پہنچا کر سکون کا سانس لیا جس میں مچھلی کی اچھلتی خوشبو نے جو گھٹنے ٹیکنے کو بالکل تیار نہ تھی پھر سے بس گئی۔ مجھے اپنا بسا بسایا گھر خطرے میں نظر آرہا تھا مگر اب دوسری ترکیب سوچنے کے سوا چارہ نہ تھا۔لہٰذا ایک گلدستہ بھی خرید لیا۔ گھر پہنچی تو ایک ہاتھ میں گلدستہ، دوسرے ہاتھ میں چار گجرے اور انگلیوں سے لٹکتی مچھلی کی تھیلی جو اصل میں سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ انتہائی خوش قسمتی کہ کمال لاؤنج میں بیٹھے بوریت سے چینل چینج کر رہے تھے۔ کاش کے اگر پامیلہ انڈریسن یا ہیلے بیری کی کوئی فلم آرہی ہوتی تو مجال کہ مڑ کر دیکھتے مگر وہ دونوں اس وقت کہیں دفع تھیں اس لیے انہوں نے حیرت سے مجھے پھولوں میں لدا پھندا دیکھا۔ کمال کو معلوم ہے کہ مجھے گجروں کا کوئی شوق نہیں مگر جھگڑوں کا ظالم سمجھتا ہے کہ ہے۔ پوچھا ’ یہ پھول کس کے لیے ہیں‘؟ میں نے حسب توفیق بوکھلا کر جواب دیا ’تمہارے لیے‘۔ فرمایا ’اور یہ تھیلی میں‘؟ میں نے بھر پور حماقت کے ساتھ جواب دیا’ وہ جو بلی گھومتی رہتی ہے نہ باہر اس کے لیے۔۔۔ بے چاری کئی دن سے کہہ رہی تھی‘۔ لبِ لباب یہ کہ اگر آپ کے میاں یا بیوی کو مچھلی پسند نہیں تو بچپن میں سنی اس نظم میں لذت گناہ نکالنے کی کوشش کیجئے مگر گناہ ہرگز مت کیجئے۔۔۔ ’مچھلی جل کی رانی ہے جیون اس کا پانی ہے‘۔
جاوید اقبال ملک، چکوال : شیما بہن، سلام۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی اجنبی انسان کے ساتھ اس قدر خیالات ملتے جلتے ہوں گے۔ آپ کے میاں اور میرے درمیان بڑی ہم آہنگی ہے۔ میری بیوی بھی شادی کے بعد متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ مچھلی پکائیں مگر میں ٹال مٹول سے کام چلا رہا ہوں۔ ویسے مجھے سرکہ تو بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ ویسے آپ اپنے میاں کا خیال رکھیں۔۔۔چونکہ مشرف کے دور میں خواتین کو کچھ زیادہ ہی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔۔۔ اعجاز احمد، ٹورانٹو : ثنا خان، کراچی : سیدہ جعفری، کینیڈا: شفیق خان، سعودی عرب: آر محمد، کینیڈا: محمد یوسف اقبال، دبئی : شاہدہ اکرام، ابو ظہبی:
شاخیں ایسی جیسے سوکھی مریل بانہیں دُلار سے، بہت پیار سے کسی سے گلے ملنے کو بے چین، بےقرار ہوں۔ یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں گھنا اور سایہ دار رہا ہوگا۔ مگر اس کی اُن شاخوں میں جیسے ایک بلاوا ہے کہ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے جو کبھی کا اجڑ چکا، آرزوؤں کے بن کھلے پھولوں کی قبر بن چکا۔ اسے کسی مانوس ڈاکو نے لوٹ لیا اسی لئے رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس درخت کو کوئی جڑ سے اکھاڑ بھی نہیں پھینکتا کہ اس کے دکھ، اس کی بے ماندگی اور بنجر پن کی کتھا ختم ہو جائے جو معلوم نہیں کب سے وہ سب کو سناتا آرہا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی نے سنی بھی ہوگی اس کے کہانی بلکہ کیا کسی نے اسے کبھی دیکھا بھی ہوگا۔ سب کی نظر تو دلفریب نظارے اُچک لیتے ہیں۔ بھلا اس ویران پر کتنوں کا دھیان گیا ہوگا۔ ایک پتہ نہیں، ایک بوٹا نہیں، پنپنے کا ایک بھی امکان باقی نہیں۔ وہ ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کا دکھ سہتا ہے اور مجھ سے روزانہ ہی کچھ کہتا ہے۔ کبھی اپنی تقدیر کا رونا، کبھی اپنی جاگتی قسمت کا دھیرے دھیرے گہری نیند سونا۔ اسے نہیں معلوم کہ میں اس کے لئے کچھ بھی تو نہیں کر سکتی۔ مجھے تو خود اس کے ویران سائے میں پناہ چاہیے۔
سید عمران احمد نقوی، پاکستان: ایاز گل، لاہور: خالد علی، کینیڈا: خالد علی، کیلگری، کینیڈا: شاہدہ اکرام، یواے ای: اوصاف سلیم، ٹورنٹو: رضوان عباس، دمام: فوزیہ نیازی، کینیڈا: ساجد شاہ، برطانیہ: کامران، پاکستان: ثنا خان، کراچی: شاہدہ اکرام، کراچی: عارف حسن، کراچی: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||