BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 June, 2006, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھلی، جھگڑے اور گجرے


بارہ جون: ’مچھلی، جھگڑے اور گجرے‘



میرے میاں کو مچھلی کی بو سے شدید چڑ ہے۔ شادی کے بعد صرف ایک دفعہ لاعلمی کے باعث کوتاہی ہوئی تھی۔ پھر میں نے توبہ کر لی کیوں کہ میرے مچھلی پکانے پر کمال اتنا مچلے کہ پڑوسیوں کو بڑا مزہ آیا۔ کمال ویسے پرفیوم کو بھی بدبو کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ لہسن ادرک کی بو، زیرے کا بھگار، سرکے اور وغیرہ وغیرہ کو سات پردوں میں رکھنا پڑتا ہے۔ پیچیدہ اور پوشیدہ بیماریوں کی طرح تاکہ ازدواجی جھگڑوں سے گھروالے محفوظ رہیں اور محلے والے محظوظ نہ ہونے پائیں۔ لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی مشکل وقت آن ہی پڑتا ہے۔

ایک دن ساڑھے سات بجے شام کو ایک میٹنگ بھگتا کر میں کلائنٹ کے آفس سے گھر جا رہی تھی جب مصالحہ دار فرائیڈ فش کی خوشبو نے ایسا انتشار پیدا کیا کہ بن پانی کی مچھلی والی حالت ہونے لگی۔ اسے جب تک آدھا کلو مچھلی کی خریداری میں نہ بدل لیا مجھے چین نہ آیا۔ سوچا میں اور بچے چھپ چھپا کر کھا ہی لیں گے اور ائیر فریشنر کی پوری بوتل جائے وقوعہ پر خرچ کر کے اپنی جان بچا لیں گے۔

مگر کم بخت گاڑی کا کیا ہو گا جس میں صبح کمال کو آفس جانا تھا۔ گرمی اپنی عروج پر ہونے کی وجہ سے ائیرکنڈیشننگ بھی آن تھی اور مچھلی کی خوشبو پکار پکار کر کسی مصیبت کو آوازیں دے رہی تھی۔ اچانک ایک گجرے بیچنے والا نظر اگیا اور کافی حیران ہوا کہ ایک عورت اپنے لیے اکٹھے چار گجرے خرید رہی ہے۔

گجرے گاڑی میں پہنچا کر سکون کا سانس لیا جس میں مچھلی کی اچھلتی خوشبو نے جو گھٹنے ٹیکنے کو بالکل تیار نہ تھی پھر سے بس گئی۔ مجھے اپنا بسا بسایا گھر خطرے میں نظر آرہا تھا مگر اب دوسری ترکیب سوچنے کے سوا چارہ نہ تھا۔لہٰذا ایک گلدستہ بھی خرید لیا۔ گھر پہنچی تو ایک ہاتھ میں گلدستہ، دوسرے ہاتھ میں چار گجرے اور انگلیوں سے لٹکتی مچھلی کی تھیلی جو اصل میں سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔

انتہائی خوش قسمتی کہ کمال لاؤنج میں بیٹھے بوریت سے چینل چینج کر رہے تھے۔ کاش کے اگر پامیلہ انڈریسن یا ہیلے بیری کی کوئی فلم آرہی ہوتی تو مجال کہ مڑ کر دیکھتے مگر وہ دونوں اس وقت کہیں دفع تھیں اس لیے انہوں نے حیرت سے مجھے پھولوں میں لدا پھندا دیکھا۔ کمال کو معلوم ہے کہ مجھے گجروں کا کوئی شوق نہیں مگر جھگڑوں کا ظالم سمجھتا ہے کہ ہے۔ پوچھا ’ یہ پھول کس کے لیے ہیں‘؟ میں نے حسب توفیق بوکھلا کر جواب دیا ’تمہارے لیے‘۔ فرمایا ’اور یہ تھیلی میں‘؟ میں نے بھر پور حماقت کے ساتھ جواب دیا’ وہ جو بلی گھومتی رہتی ہے نہ باہر اس کے لیے۔۔۔ بے چاری کئی دن سے کہہ رہی تھی‘۔

لبِ لباب یہ کہ اگر آپ کے میاں یا بیوی کو مچھلی پسند نہیں تو بچپن میں سنی اس نظم میں لذت گناہ نکالنے کی کوشش کیجئے مگر گناہ ہرگز مت کیجئے۔۔۔

’مچھلی جل کی رانی ہے جیون اس کا پانی ہے‘۔


آپ کیا کہتے ہیں:

جاوید اقبال ملک، چکوال :
شیما بہن، سلام۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی اجنبی انسان کے ساتھ اس قدر خیالات ملتے جلتے ہوں گے۔ آپ کے میاں اور میرے درمیان بڑی ہم آہنگی ہے۔ میری بیوی بھی شادی کے بعد متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ مچھلی پکائیں مگر میں ٹال مٹول سے کام چلا رہا ہوں۔ ویسے مجھے سرکہ تو بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ ویسے آپ اپنے میاں کا خیال رکھیں۔۔۔چونکہ مشرف کے دور میں خواتین کو کچھ زیادہ ہی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔۔۔

اعجاز احمد، ٹورانٹو :
بی بی باتیں بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے۔ حضور اگر مچلھی کھانے کا شوق صرف آپ ہی کو ہے تو بازار سے لا کر فرائی کرنے کی کیا ضرورت؟ اور آپ کے کمال صاحب کو تو میں نے خود فِش کھاتے دیکھا ہے، اور آپ پر پابندی لگا رکھی ہے۔۔۔سچ، آپ خود پوچھ لیں!

ثنا خان، کراچی :
یہ کیا بات ہوئی۔ آپ کے شوہر کو تو نفصیاتی مسئلہ ہے۔ ان کا علاج کرائیں اور آپ تو بہت ہی زیادہ فرمابردار بیوی ہیں۔ اگر آپ کو مچھلی کی خوشبو سے الرجی ہوتی تو کیا آپ کے شوہر بھی ایسا ہی کرتے جو آپ نے کیا؟

سیدہ جعفری، کینیڈا:
شیما آپ نے مسٹر کمال کو بہت سر پر چڑھا رکھا ہے۔ اسی لیے وہ آپ کے سر پر ناچتے ہیں۔ اتنا ڈرنے کی ضرورت کیا ہے؟ آپ کو فِش کھانی ہے، مسٹر کمال کو اطلاع دے دیں اور کہہ دیں کہ اگر خوشبو اتنی ناقابل برداشت ہے تو گھر میں دوسرے دن تشریف لائیں، جب خوشبو ختم ہو چکی ہو۔ سارے گھر کو دہشت زدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے آپ کی شوہر کی پیمیلہ اینڈرسن جیسی فضول پسند ہے؟!! آپ میری پسندیدہ بلاگ رائیٹر ہیں۔ اور اس بار بھی بلاگ ہمیشہ کی طرح زبردست تھا۔

شفیق خان، سعودی عرب:
شیما جی آپ کے شوہر کو شدید قسم کی الرجی ہے۔ ان کا اچھی طرح علاج کروائیں۔ ویسے آپ کے حوصلے کو سلام، جو ان کے ساتھ گزارا کر رہی ہیں۔

آر محمد، کینیڈا:
بہت خوب!

محمد یوسف اقبال، دبئی :
شیما جی اب خاوند صاحب سے اتنا بھی کیا ڈرنا۔ مجھے تو بلی بنی ہوئی نظر آرہی ہیں، وہ بھی بھیگی۔ ویسے آپ کی اتنی دلچسپ تحریر پہلے نہیں پڑھی۔ میں بھی اماں سے جا کر کہتا ہوں مچھلی بنانے کے لئے۔ بہت دن ہوگئے ہم نے بھی مچھلی کا تیا پانچا نہیں کیا۔

شاہدہ اکرام، ابو ظہبی:
شیما جی حسب دستور ایک دفعہ پھر میدان مار لیا۔ آپ سے بالکل الٹ حالات ہیں یہاں۔ میرے شوہر کو یعنی اکرام صاحب کو مچھلی بہت پسند ہے اور مجھی بھی بہت اچھی لگتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی اور پکا کر دے جائے یا کہیں جا کر کھا لی جائے۔ کمال بھائی والا حال تو نہیں لیکن گھر میں لذت گناہ والی اذیت برداشت نہیں ہوتی۔ سو وہ بے چارے مچھلی فیلڈ کے میس سے کھا کر دل خوش کر لیتے ہیں اور ہم یہ شوق کسی اور کے سر پر پورا کر لیتے ہیں، یعنی گھر سے باہر کھا کر۔ لیکن گھر میں اتنی گھمبیر صورتحال نہیں ہوتی جیسا کہ آپ نے بیان کی۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ یہ جل کی رانی اتنی بدگمانیاں کیوں پیدا کرتی ہے کہ لاکھ کہیں چھپ جاؤ چھپ نہیں پاتی۔ میرا مطلب خوشبو جو آپ کے ہاں بو سی ہے۔


چار جون: ’ایک اجڑا ہوا درخت میرے راستے میں آتا ہے۔۔۔۔‘


شاخیں ایسی جیسے سوکھی مریل بانہیں دُلار سے، بہت پیار سے کسی سے گلے ملنے کو بے چین، بےقرار ہوں۔ یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں گھنا اور سایہ دار رہا ہوگا۔

مگر اس کی اُن شاخوں میں جیسے ایک بلاوا ہے کہ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے جو کبھی کا اجڑ چکا، آرزوؤں کے بن کھلے پھولوں کی قبر بن چکا۔ اسے کسی مانوس ڈاکو نے لوٹ لیا اسی لئے رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس درخت کو کوئی جڑ سے اکھاڑ بھی نہیں پھینکتا کہ اس کے دکھ، اس کی بے ماندگی اور بنجر پن کی کتھا ختم ہو جائے جو معلوم نہیں کب سے وہ سب کو سناتا آرہا ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی نے سنی بھی ہوگی اس کے کہانی بلکہ کیا کسی نے اسے کبھی دیکھا بھی ہوگا۔ سب کی نظر تو دلفریب نظارے اُچک لیتے ہیں۔ بھلا اس ویران پر کتنوں کا دھیان گیا ہوگا۔ ایک پتہ نہیں، ایک بوٹا نہیں، پنپنے کا ایک بھی امکان باقی نہیں۔ وہ ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کا دکھ سہتا ہے اور مجھ سے روزانہ ہی کچھ کہتا ہے۔ کبھی اپنی تقدیر کا رونا، کبھی اپنی جاگتی قسمت کا دھیرے دھیرے گہری نیند سونا۔ اسے نہیں معلوم کہ میں اس کے لئے کچھ بھی تو نہیں کر سکتی۔ مجھے تو خود اس کے ویران سائے میں پناہ چاہیے۔


آپ کا خط:

سید عمران احمد نقوی، پاکستان:
شیما جی اگر ممکن ہو سکے تو اس اجڑے ہوئے درخت کو پانی دے دیجئے، امید ہے کہ یہ اجڑا ہوا درخت ہرا ہو جائے گا اور پھر آپ بھی اس کے سائے میں بیٹھ کے چین حاصل کر سکیں گی ورنہ یہ کبھی بھی آپ کا راستہ نہیں چھوڑے گا۔ شاید روز حشر کو بھی یہ آپ کے سامنے ہو اور اس دن آپ کچھ بھی نہ کر سکیں گی۔

ایاز گل، لاہور:
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ۔ ۔ ۔ شکریہ شیما جی۔

خالد علی، کینیڈا:
یہ تحریر بہت اچھی ہے۔ اگر آپ کو ان کی تحریروں کی سمجھ نہیں آتی تو تبصرہ کرنے کی زحمت نہ اٹھائیں۔

خالد علی، کیلگری، کینیڈا:
بہت خوب، بہت سے لوگ اس تنہا درخت کی طرح محسوس کرتے ہیں۔

شاہدہ اکرام، یواے ای:
آپ کے بلاگز میں کانٹوں اور پھولوں کا ایسا حسین امتزاج ہے جو دل کو چھو جاتا ہے۔ یہ کسی کسی کا ہی کام ہے۔

اوصاف سلیم، ٹورنٹو:
ہر اجڑا ہوا درخت اگر غور کریں تو انسان کو ایک پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔

رضوان عباس، دمام:
آپ کے لکھنے کے انداز سے لگتا ہے کہ آپ کے پاس فری ٹائم کافی ہے۔

فوزیہ نیازی، کینیڈا:
سوری سمجھ نہیں آیا آپ کابلاگ۔

ساجد شاہ، برطانیہ:
اس درخت کی جگہ ایک نیا پودا لگائیے، ثواب بھی ملے گا اور سکون بھی۔

کامران، پاکستان:
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی۔

ثنا خان، کراچی:
چلیں کوئی اجڑا ہوا درخت تو آتا ہے ناں راستے میں، یہاں تو کوئی کالی بلی تک نہیں آتی میرے راستے میں۔

شاہدہ اکرام، کراچی:
اگر کچھ دنوں پہلے بس سٹاپ پر لکھے جانے والے بلاگ کے بعد کوئی آپ کا یہ بلاگ پڑھے تو سوچے گا کہ کس قدر متنوع المزاج ہے یہ لکھنے والا۔

عارف حسن، کراچی:
شیما جی، آپ کیوں اور کیا لکھتی ہیں؟


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسن بلاگ ’بی بی سی محلہ‘
فرائیڈ کی بیٹی اور بش ہاؤس کا پاک ٹی شاپ
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسد علیپڑھائی، چائے، قوّالی
کیا کبھی آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ اسد علی
کھائیں تو کھائیں کہاںکھائیں توکھائیں کہاں
تھوڑے جھوٹ کے ساتھ عارف شمیم کا سارا سچ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد