پڑھائی، چائے اور قوّالی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ اس دن کی بات ہے جب مجھے صرف پڑھائی کرنا تھی۔ پروگرام کے مطابق آنکھ کھُل گئی۔ وقت مقرّرہ پر میں کتابیں کھول کر میز پر بیٹھ گیا اور تاریخ کے نئے نئے پہلو عیاں ہونا شروع ہو گئے۔ بہت مزہ آ رہا تھا۔ زیادہ دیر نہیں گزری کہ چائے کی طلب ہوئی۔ فرج کھولا تو معلوم ہوا کہ دودھ نہیں ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ گھر کے بالکل سامنے دو پٹرول پمپ ہیں جہاں پرگاڑیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی ضرورت کی بنیادی اشیا بھی میسر ہیں، لیکن وہاں سے ’آرگینک‘ دودھ نہیں ملتا۔ ویسے تو وقتی طور پر پٹرول پمپ سے دودھ لا کر کام چلایا جا سکتا تھا لیکن میں نے سوچا کہ رات کو بھی دودھ کی ضرورت ہوگی تو کیوں نہ ’ویٹ روز‘ سپر مارکیٹ سے جا کر ایک ہی بار دودھ کا لیٹر والا ڈبہ لے آؤں۔ آدھ گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا اور تازہ دم ہو کر کتاب کا نیا باب شروع کریں گے۔ ’ویٹ روز‘ پہنچ کر یاد آیا کہ کھجوریں بھی ختم ہیں اور گلدان میں پھول بھی مرجھا چکے ہیں۔ کم دام پر یہ چیزیں لینے کے لیے مجھے کچھ مزید فاصلہ طے کر کے اپنی پسندیدہ سبزی کی دکان تک جانا پڑا۔ راستے میں خیال آیا کہ عارف کے گھر ٹیلیفون کیا جائے کافی دنوں سے حال احوال نہیں پوچھا۔ اب معلوم ہوا کہ فون کا کریڈٹ ختم ہو چکا ہے۔ علاقے میں جس کیش مشین سے فون ٹاپ اپ ہو سکتا تھا وہ سبزی کی دکان سے کچھ پانچ منٹ مزید دور ہے۔ سوچا کہ فون کی تو ویسے بھی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اب اگر گھر سے نکلے ہی ہیں تو یہ کام بھی نمٹا دیں۔ کیش مشین تک پہنچنے کے لیے ایک پیزا کی دکان کے آگے سے گزرنا ہوا جہاں موقع پر ہی میدہ گوندھ کر لکڑی سے چلنے والے اوون میں پیزا تیار کیا جاتا ہے۔ میں سینکڑوں بار اس دکان کے آگے سے بغیر رکے گزر چکا تھا۔ کبھی پریشانی نہیں ہوئی۔ لیکن اب میں نے خود پر جو ڈسپلن طاری کیا تھا اس پر گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی۔ کیش مشین سے فون میں کریڈٹ ڈلوانے کے ساتھ ایک دس پاؤنڈ کا نوٹ نکلوایا اور واپسی پر پیزا کی دکان میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد سبزی کی دکان سے کھجوریں اور ڈیفوڈل کے گلدستے لیے، ’ویٹ روز‘ سے ’آرگینک دودھ‘ اور کچھ اور سودا سلف خرید کر گھر روانہ ہو گیا۔ سیر لمبی ہو چکی تھی، سامان کا وزن بھی بڑھ گیا تھا اور گلی کی اونچائی سر کر کے دو گھنٹے کے بعد گھر پہنچا تو بھوک چمک اٹھی۔ میز سے کتابیں ہٹا کر پلیٹیں سجائیں۔ ڈبہ کھولا تو معلوم ہوا ہے کہ پیزا ہل جل کی وجہ سے ڈبے سے چپک چکا تھا جسے الگ کر کے میں نے جلدی سے کھایا۔ تیزی سے چائے بنا کر پی۔ قیلولے کی بجائے قالین پر سیدھے لیٹ کر قوالی سُنی اور پھر پلیٹیں ہٹا کر دوبارہ کتابیں میز پر رکھ دیں۔ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا؟
ارم سیّد، کینیڈا ثنا خان، کراچی مستحل خان، دبئی عرفان، کینیڈا آصف جاوید شیخ، بارسلونہ، ہسپانیہ انعام حق، سوانا، امریکہ شیما صدیقی، ناظم آباد، کراچی ایم اے آر خان، ٹورانٹو گل بیگ، عمر کوٹ، پاکستان رانا سہیل، کینیڈا اظہار شاہ، کینیڈا عثمان ضیا، ایڈلیڈ، آسٹریلیا |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||