BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پڑھائی، چائے اور قوّالی

کتاب


چھبیس اپریل، شام چار بج کر پچیس منٹ

یہ اس دن کی بات ہے جب مجھے صرف پڑھائی کرنا تھی۔ پروگرام کے مطابق آنکھ کھُل گئی۔ وقت مقرّرہ پر میں کتابیں کھول کر میز پر بیٹھ گیا اور تاریخ کے نئے نئے پہلو عیاں ہونا شروع ہو گئے۔ بہت مزہ آ رہا تھا۔

زیادہ دیر نہیں گزری کہ چائے کی طلب ہوئی۔ فرج کھولا تو معلوم ہوا کہ دودھ نہیں ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ گھر کے بالکل سامنے دو پٹرول پمپ ہیں جہاں پرگاڑیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی ضرورت کی بنیادی اشیا بھی میسر ہیں، لیکن وہاں سے ’آرگینک‘ دودھ نہیں ملتا۔

ویسے تو وقتی طور پر پٹرول پمپ سے دودھ لا کر کام چلایا جا سکتا تھا لیکن میں نے سوچا کہ رات کو بھی دودھ کی ضرورت ہوگی تو کیوں نہ ’ویٹ روز‘ سپر مارکیٹ سے جا کر ایک ہی بار دودھ کا لیٹر والا ڈبہ لے آؤں۔ آدھ گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا اور تازہ دم ہو کر کتاب کا نیا باب شروع کریں گے۔

’ویٹ روز‘ پہنچ کر یاد آیا کہ کھجوریں بھی ختم ہیں اور گلدان میں پھول بھی مرجھا چکے ہیں۔ کم دام پر یہ چیزیں لینے کے لیے مجھے کچھ مزید فاصلہ طے کر کے اپنی پسندیدہ سبزی کی دکان تک جانا پڑا۔ راستے میں خیال آیا کہ عارف کے گھر ٹیلیفون کیا جائے کافی دنوں سے حال احوال نہیں پوچھا۔ اب معلوم ہوا کہ فون کا کریڈٹ ختم ہو چکا ہے۔ علاقے میں جس کیش مشین سے فون ٹاپ اپ ہو سکتا تھا وہ سبزی کی دکان سے کچھ پانچ منٹ مزید دور ہے۔

سوچا کہ فون کی تو ویسے بھی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اب اگر گھر سے نکلے ہی ہیں تو یہ کام بھی نمٹا دیں۔ کیش مشین تک پہنچنے کے لیے ایک پیزا کی دکان کے آگے سے گزرنا ہوا جہاں موقع پر ہی میدہ گوندھ کر لکڑی سے چلنے والے اوون میں پیزا تیار کیا جاتا ہے۔ میں سینکڑوں بار اس دکان کے آگے سے بغیر رکے گزر چکا تھا۔ کبھی پریشانی نہیں ہوئی۔ لیکن اب میں نے خود پر جو ڈسپلن طاری کیا تھا اس پر گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی۔

کیش مشین سے فون میں کریڈٹ ڈلوانے کے ساتھ ایک دس پاؤنڈ کا نوٹ نکلوایا اور واپسی پر پیزا کی دکان میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد سبزی کی دکان سے کھجوریں اور ڈیفوڈل کے گلدستے لیے، ’ویٹ روز‘ سے ’آرگینک دودھ‘ اور کچھ اور سودا سلف خرید کر گھر روانہ ہو گیا۔

سیر لمبی ہو چکی تھی، سامان کا وزن بھی بڑھ گیا تھا اور گلی کی اونچائی سر کر کے دو گھنٹے کے بعد گھر پہنچا تو بھوک چمک اٹھی۔ میز سے کتابیں ہٹا کر پلیٹیں سجائیں۔ ڈبہ کھولا تو معلوم ہوا ہے کہ پیزا ہل جل کی وجہ سے ڈبے سے چپک چکا تھا جسے الگ کر کے میں نے جلدی سے کھایا۔ تیزی سے چائے بنا کر پی۔ قیلولے کی بجائے قالین پر سیدھے لیٹ کر قوالی سُنی اور پھر پلیٹیں ہٹا کر دوبارہ کتابیں میز پر رکھ دیں۔

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا؟


آپ کیا کہتے ہیں؟

ارم سیّد، کینیڈا
اب وطن سے دور ماں کی یاد آتی ہے اور پڑھتے وقت ان کا شفیق چہرہ یاد آتا ہے کہ ہم سے زیادہ ان کو ہمارے پرچوں کی فکر ہوتی تھی۔

ثنا خان، کراچی
ایسا ہمیشہ پڑھائی کرنے کے ٹائم ہوتا ہے۔ اس سے اچھا تو یہ ہے کہ صرف امتحانوں کے دنوں میں پڑھا جائے۔

مستحل خان، دبئی
میرے ساتھ تو یہ اکثر ہوتا ہے۔ میرے لیے بغیر پھل یا چائے کے پڑھائی کرنا ناممکن ہے۔ میں ہمیشہ کتاب پڑھتے ہوئے دودھ یا چائے پیتا ہوں اس سے لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

عرفان، کینیڈا
اسد بھائی آپ نے پرھنا وغیرہ ہے کوئی نہیں، کتاب میں تصویریں دیکھ کر سو گئے ہوں گے۔ ویسے آپ پڑھتے ہوئے نہیں کام کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔

آصف جاوید شیخ، بارسلونہ، ہسپانیہ
آپ نے خوب سوال کیا کہ کیا کبھی ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے؟ میرے ساتھ تو ہر ہفتے ایسا ہوتا ہے۔

انعام حق، سوانا، امریکہ
یہ تو مجھے اپنی کہانی لگتی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ میرے ساتھ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔

شیما صدیقی، ناظم آباد، کراچی
پڑھ کر مزہ آیا۔ایسا لگا جیسے یہ صاحب نہیں ہم خود سفر کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ پیزا کھایا اور چائے کے مزے لیے۔ جناب وہ کون سی کتاب تھی، کیا نام تھا اس بُک کا جس کو ختم کرنا ضروری ٹھہرا۔

ایم اے آر خان، ٹورانٹو
اسد بھائی کیا دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ ایسا میں دس سال سے کر رہا ہوں۔ آپ کے بلاگ سے آنکھیں کھل گئی ہیں۔ کل سے کام شروع کروں گا۔

گل بیگ، عمر کوٹ، پاکستان
ایک نہیں بیسیوں بار ایسا ہوا۔ کوئی کام کی بات لکھتے تو وقت بچ جاتا۔

رانا سہیل، کینیڈا
ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب آپ کوئی ایسا کام کرنا چاہ رہے ہوں جو آپ حقیقت میں نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے۔ اگر آپ ہیر وارث پڑھ رہے ہوتے تو آپ کا فیصلہ مختلف ہوتا۔

اظہار شاہ، کینیڈا
یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ بیرونی ممالک میں عموماً اس طرح تو ہوتا ہی ہے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے بہت سے کام ایک ساتھ کرنا پڑتے ہیں۔

عثمان ضیا، ایڈلیڈ، آسٹریلیا
کبھی کیا میرے ساتھ روز ایسا ہوتا ہے۔ اپنا ٹائم بچانے کے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ صبح اٹھ کر ورزش، پھر یونیورسٹی میں پڑھائی اور شام کو دوستوں سے میل ملاقات۔ سب کام ٹھیک چل رہے ہیں۔ ہفتے میں دو دن فٹبال پریکٹس بھی چل رہی ہے اور جم بھی جاتا ہوں لیکن پڑھائی ایک قدم آگے نہیں بڑھی۔ ہر بار کوئی نہ کوئی اور کام یاد آجاتا ہے۔ آخر جن لوگوں سے پڑھائی نہیں ہوتی انہیں پڑھنا کیوں پڑتا ہے؟ اس دنیا کے دستور کب سدھریں گے؟


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسد علیاگلےدن بہت مزہ آیا
وہ میرا خواب سن کر خوش ہوئی: اسد علی
حسن بلاگ ’بی بی سی محلہ‘
فرائیڈ کی بیٹی اور بش ہاؤس کا پاک ٹی شاپ
عنبرخیریبلاگر میرا بھائی نکلا
عنبرخیری اور ضیاء احمد کی رشتےداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد