BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 November, 2006, 20:11 GMT 01:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھلیوں کےشکار پر پابندی نامنظور
ان مذاکرات میں سمندری نباتات کے تحفظ کے لیے صرف چند احتیاطی تدابیر اپنانے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے
ماہی گیری پر اقوام متحدہ میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ماہی گیری کے ان طریقوں پر پابندی لگانا تھا جن کی وجہ سے سمندری حشروں اور مچھلیوں کی پیداوار کی جگہوں نقصان پہنچتا ہے۔

بقائے ماحول کے ماہرین اور چند حکومتوں کا مطالبہ تھا کہ سمندر کی سطح کے قریب سے مچھلیاں پکڑنے کے عمل پر پابندی لگائی جائے جیسا کہ اس میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے بھاری جالوں اور رولرز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے سمندری نباتات کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔

ان مذاکرات میں صرف اس بات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے کہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔

اکتوبر میں اعلیٰ پائے کے سائنسدانوں نے تنبیہ کی تھی کہ اگر مچھیرے مچھلیاں پکڑنے کے لیے اپنے موجودہ طریقہ کار پر قائم رہے تو اگلے پچاس سالوں میں مچھلیاں ناپید ہو جائیں گی۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ پابندی کی قرارداد کو اگلے ماہ جنرل اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے اس پر منظوری حاصل کر لی جائے۔

ان مذاکرات کا اہم ترین پہلو سمندر کی سطح کے قریب سے بھاری جالوں کی مدد سے مچھلیوں کو پکڑنا تھا جیسا کہ یہ طریقہ مچھلیوں کی افزائش کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگلے پچاس سالوں میں مچھلیوں کی کئی اقسام ناپید ہو جائیں گی

مائی گیری کے اس طریقے سے ایسی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جن کی افزائش کا عمل بہت سست ہوتا ہے اور جو کئی دہائیوں کے بعد انڈے دینے کا کام کرتی ہیں۔ اس طرح کی مچھلیوں میں ’اورنج رفی‘ نامی قسم شامل ہے۔

پچھلے تین سالوں سے بقائے ماحول کے ماہرین اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ سمندری سطح کے قریب سے مچھلیاں پکڑنے کے عمل پر پابندی لگائی جائے لیکن اب انہیں مذاکرات کی ناکامی سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔

میرین کنزرویشن سوسائٹی(marine conservation society) میں مائی گیری سے متعلق پروگرام کے پالیسی افیسر بریس بیوکر سٹیوارٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ امید کر رہے تھے کہ گہرے سمندرو ں کی خوبصورت اور حیران کن مخلوق کو ہم کرس مس کے مہینے کے پہلے ہفتے میں ان کی بقا اور تحفظ کا تحفہ دیں گے لیکن ایک بار پھر تھوڑے عرصے پر مشتعمل سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے اس اہم مطالبے کو رد کر دیا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں
’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی
18 January, 2006 | نیٹ سائنس
اب تک کی سب سے چھوٹی مچھلی
26 January, 2006 | نیٹ سائنس
سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘
03 November, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد