 | | | آبی حیات کے تحفظ کے زون قائم کیے جائیں: سائنسدان |
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر صنعتی سطح پر مچھلے پکڑنے اور ماحولیات پر منفی اثرات کے موجودہ رجحانات جاری رہے تو سمندروں میں مچھلیوں کے ذخیرے اس صدی کے نصف تک ختم ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق مچھلیوں کے ختم ہونے سے ساحلی علاقوں کے ایکوسیسٹم کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور پانی کی کوالٹی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والے سائنسدانوں کے ریسرچ کے مطابق سمندروں میں مچھلیوں کے ذخیرے ایک تہائی ختم ہوچکے ہیں اور ان رجحانات کے جاری رہنے کی صورت میں ساحلی علاقوں کا ماحول متاثر ہوگا۔ کینیڈا کی ڈلہوزی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ بورِس ورم کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ مچھلیوں کے ذخیرے محدود ہیں، ایک تہائی پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور باقی بھی ختم ہوجائےگا۔‘ کیلیفورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے اسٹیو پلومبی نے، جو سائنسدانوں کی ٹیم میں شامل تھے، بتایا کہ ’اگر ہم آبی حیات کی جانب اپنے رویے میں بنیادی سطح پر تبدیلیاں نہیں کرتے تو یہ صدی سمندروں سے ملنے والی غذاء کے لئے آخری صدی ثابت ہوگی۔‘  | مچھلیاں ختم ہورہی ہیں  سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلی پکڑنے کی بہتر مشینیں، بڑی بڑی جالیں، بڑے بڑے بحری جہاز، وغیرہ کے استعمال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زیادہ مچھلیاں پکڑی جارہی ہیں بلکہ پہلے کی نسبت اب بہتر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود کم مچھلیاں پکڑی جاری ہیں۔  |
اس تحقیق میں یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک جامع مطالعے کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ان سائنسدانوں کے مطابق شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں سے مچھلیاں پکڑنے کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ مچھلیوں سمیت دیگر آبی حیات کی کھیپ کم ہوتی جارہی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلی پکڑنے کی بہتر مشینیں، بڑی بڑی جالیں، بڑے بڑے بحری جہاز، وغیرہ کے استعمال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زیادہ مچھلیاں پکڑی جارہی ہیں بلکہ پہلے کی نسبت اب بہتر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود کم مچھلیاں پکڑی جاری ہیں۔ سن 2003 میں کھلے سمندر میں انتیس فیصد مچھلی کے ذخیرے ختم ہوچکے تھے۔ (سائنسدانوں کے مطابق آبی حیات کے ذحیرے ختم ہونے کی تشریح یہ ہے کہ مچھلیوں کی پہلے کی پیداوار میں دس فیصد کا نقصان ہونا۔) لیکن یہ سائنسدان ساتھ ہی اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ جن علاقوں میں مچھلی پکڑنے پر مکمل یا نیم پابندی عائد کردی گئی ہے وہاں مچھلیوں کے ذخیرے بہتر ہورہے ہیں۔ لیکن اس مطالعے میں یہ بات تحقیق کا مرکز رہی ہے کہ مجموعی طور پر آبی حیات سمیت ایکو سیسٹم کو کیا خطرات لاحق ہیں۔ تاہم اس مطالعے سے ایک اہم نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ آبی حیات کے تحفظ کے اقدامات حالات کو بہتر بناسکتے ہیں۔ ورلڈ کنزرویشن یونین کے اہلکار کارل گستاف لوندِن کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے سے مچھلیوں کی تعداد ہی نہیں بڑھتی بلکہ ان کی سائز بھی بڑی ہوتی ہے۔‘ آبی حیات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے جس کے بارے میں بورس ورم کا خیال ہے کہ یورپی ممالک سنجیدہ نہیں ہیں اور ماضی میں نارتھ سِی میں آبی حیات کو تحفظ فراہم کرنے کی تجاویز کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ |