جزائر کا قضیہ: ماہی گیروں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو پاکستانی سمندری جزائر پر غیرملکی کمپنی کی مجوزہ تعمیرات کے خلاف سندھ میں ماہی گیروں کی تنظیم نے یوم سیاہ منایا۔ اندرون سندھ کے چند شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور ٹریفک جام بھی رہی۔ اس ہڑتال میں ماہی گیروں کو پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سندھ کے ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے زیر اہتمام کراچی فش ہاربر پر ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا اور نعرے بازی کی گئی۔ ماہی گیر نعرے لگا رہے تھے کہ جزائر کی فروخت بند کرو، جدید شہروں کی تعمیرات بند کرو، ماہی گیرو ں کی بے دخلی نامنظور۔ ماہی گیر پرامن طور پر منتشر ہوگئے، البتہ انہوں نے احتجاج کے طورپر اپنی کشتیاں سمندر کے کنارے روکے رکھیں اور ان پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی اپیل پر ہونے والے اس یوم سیاہ کے سلسلے میں اندرون سندھ میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ حیدر آبادمیں ہمارے نامہ نگار علی حسن کے مطابق بدین میں مکمل ہڑتال رہی بازار اور ٹریفک بند رہی جبکہ ٹنڈو محمد خان اور ٹھٹھہ میں جزوی طور پر کاروبار بند رہا اور معمول کی ٹریفک متاثر ہوئی۔
پاکستان فشرفوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نےمطالبہ کیا ہے کہ فروخت کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ ان جزائر کو نیشنل پارک کا درجہ دیکر ماہی گیروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ترقی کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ امیر لوگوں کے رہنے کے لیے شہر بسایا جارہا ہے جس سے ان کے بقول ماہی گیری کے پیشہ سے وابستہ پانچ لاکھ لوگ براہ راست متاثر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کافیصلہ صرف ماہی گیروں کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ سندھ کے خلاف ہے کیونکہ ان کے بقول یہ سندھیوں کو اقلیت بنا دینے کی ایک مبینہ سازش ہے۔ پاکستان فشرفوک فورم وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور اعلی عدلیہ سے رجوع کرنے پر غور رکر رہی ہے۔ تنظیم کے چیئرمین نے کہا کہ اس فیصلے کو روکنے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور احتجاج کا ہر پرامن طریقہ اپنایا جائے گا۔ تنظیم کے ترجمان سامی میمن نے بتایا کہ بیس جنوری کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور سندھ قوم پرست جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین کو ان دونوں جزائر پر لے جایا جائے گا۔ جزیرہ ڈنگی کراچی کے ابراہیم حیدری ساحل سے کوئی ایک کلومیٹر اور بنڈال کوئی چار کلومیٹر دور واقع ہے۔ ان دونوں جزائر کو غیرملکی کمپنی کے حوالے کرنے کے اعلان پرحکومت سندھ نے بھی اعتراض کیا ہے صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ جزائر سندھ کی ملکیت ہیں اور وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||