BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 February, 2007, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگلیہار ثالثی سندھ طاس کے مطابق نہیں‘

’ہندوستان بگلیہار جھیل میں پانی ڈیڈ لیول سٹوریج سے نیچے نہیں کرسکتا‘
پاکستان کے سندھ طاس کمشنر جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے غیر جانبدار ماہر ریمنڈ لیفیت نے بگلیہار منصوبے کے سپل وے کے متنازعہ معاملہ پر فیصلہ پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کے مطابق نہیں کیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے ہوتے ہوئے پاکستان کو دریائے چناب کا پانی کم ہوجانے کا خدشہ نہیں۔

انڈس کمشنر نے کہا کہ بگلیہار پن بجلی منصوبے کا ڈیزائن سندھ طاس معاہدہ میں دیے گئے معیار کے مطابق نہیں ہے اس لیے پاکستان ثالث کے پاس گیا ورنہ اسے دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے پر اعتراض نہیں تھا۔

سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہر ریمنڈ لیفیت نے بگلیہار پراجیکٹ پر جو فیصلہ دیا ہے اسے پاکستان اور بھارت دونوں نے سراہا ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کی سماعت کے دوران ثابت کیا تھا کہ بگلیہار منصوبے میں سپل وے کی جو سطح ہے اس سے ڈیم کی ریت یا مٹی (سلٹ) نہیں نکل سکتی جبکہ سیلابی پانی سپل وے اونچا رکھ کر بھی نکالا جاسکتا ہے اور غیر جانبدار ماہر نے اس موقف کو تسلیم کیا تھا۔

سندھ طاس معاہدے سے مدد نہیں لی
 غیر جانبدار ماہر نے اپنے حتمی فیصلہ میں سندھ طاس معاہدہ سے مدد نہیں لی بلکہ بھارت کو بگلیہار جھیل میں ڈیڈ لیول سے نیچے گیٹ لگانے کی اجازت دینے کے لیے ’عالمی پریکٹس اور سٹیٹ آف دی آرٹ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
جماعت علی شاہ

تاہم انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار ماہر نے اپنے حتمی فیصلے میں ہندوستان کو بگلیہار جھیل میں ڈیڈ لیول سے نیچے گیٹ لگانے کی اجازت دینے کے لیے ’عالمی پریکٹس اور سٹیٹ آف دی آرٹ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

جماعت علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں: سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصہ میں آیا تھا جبکہ ہندوستان اس پانی کو صرف محدود پیمانے پر استعمال کرسکتا ہے اور معاہدے کے مطابق ان دریاؤں پر بننے والے پراجیکٹ ایک خاص معیار کے مطابق بنیں گے تاکہ پانی میں رکاوٹ نہ آئے۔
انہوں نے کہا معاہدے کے مطابق دریائے چناب پر بجلی گھر بنانے کے لیے ڈیم کی اونچائی کم سے کم ہو اور اس پر دروازے (گیٹس) نہ ہوں لیکن اگر جگہ (سائٹ) ایسی ہو تو دروازے (گیٹس) بھی لگائے جاسکتے ہیں لیکن یہ اونچی سے اونچی سطح پر لگائے جائیں گے۔

سندھ طاس کمشنر نے کہا کہ بگلیہار پراجیکٹ پر پاکستان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ جو دروازے (گیٹس) وہاں لگائے جارہے ہیں وہ اونچی سطح پر ہوں تاکہ ہندوستان کو اس پر کنٹرول نہ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ منصوبے میں اس کا سپل وے نیچا رکھا گیا ہے دوسری طرف بھارت کا کہنا تھا کہ وہ سپل وے نیچا رکھ کر سیلابی پانی بھی نکالنا چاہتے ہیں اور ڈیم کی تہہ میں جمع ہونے والی مٹی (سلٹ) بھی نکالنا چاہتے ہیں۔

بگلیہار کی جھیل
بگلیہار کی جھیل کا ایک خوبصورت منظر

جماعت علی شاہ نے کہا کہ غیر جانبدار ماہر سے اجازت ملنے کے بعد اگر ہندوستان اسی لیول پر سپل وے رکھتا ہے تب بھی سندھ طاس معاہدے کے مطابق پانی کو جھیل میں ایک خاص سطح سے نیچے لانے کی اجازت نہیں ہے تو اس طرح پاکستان کو اس سے فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان بگلیہار کی جھیل میں پانی ڈیڈ لیول سٹوریج سے نیچے نہیں لاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار ماہر نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ڈیم کی اونچائی کو ڈیڑھ میٹر کم کردیا جائے تو بھارت کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس منصوبہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

پاکستان سندھ طاس کمشنر نے کہا کہ بگلیہار پاورہاؤس کے لیے ایک سرنگ پانی کوٹربائن تک لے کر جائے گی۔ ہم کہتے تھے کہ یہ نیچی ہے جبکہ غیر جانبدار ماہر نے کہہ دیا ہے کہ اسے تین میٹر اونچا کیا جائے اور بھارت کو واضح طور پر اسے تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دو طرفہ بات چیت میں ہماری جو بات نہیں مان رہا تھا وہ اسے غیر جانبدار ماہر کے فیصلے کے بعد ماننا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ پن بجلی کے منصوبے کا ڈھانچہ کوئی بھی ہو سندھ طاس معاہدہ کے مطابق ہندوستان نے روزانہ جو پانی پاکستان کو دینا ہے وہ اوپر سے آنے والے پانی کے کم سے کم نصف اور زیادہ سے زیادہ ایک سو تیس فیصد ہونا ضروری ہے اور پانی کی مجموعی مقدار کو ایک ہفتے میں پورا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پانی کی یہ مقدار پوری ہوتی ہے اور پاکستان کا نگرانی کا نظام وہاں نصب ہے تو ہمیں ایسا کوئی خدشہ نہیں کہ ہمارا پانی کم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں انیس سو اٹھاسی میں بھارت نے مرالہ سے پچاس کلومیٹر اوپر سلال پراجیکٹ بنایا تھا۔ سلال پر پاکستان کے اعتراضات تھے جو دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر حل ہوا اور اس پراجیکٹ کی وجہ سے وہاں سے کبھی پانی کم نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ جن دریاؤں کے بہاؤ ہندوستان کی جانب ہیں ان پر وہ جتنے ڈیم چاہے بنا سکتا ہے۔ اگر وہ معاہدہ کے مطابق ہیں تو پانی میں کمی نہیں آئے گی۔ اگر انحراف کرتے ہیں تو پاکستان ہر فورم پر مقدمہ لڑے گا۔

سرنگ
بگلیہار پاورہاؤس کے لیے ایک سرنگ پانی کوٹربائن تک لے کر جائے گی

’پراجیکٹ ڈیزائن کرنے والوں کو سندھ طاس معاہدے کا علم نہیں۔ جب پراجیکٹ کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت وہ اسے معاہدے کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ شروع ہی سے معاہدے پر عمل کیا جائے تاکہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو‘۔

ناقدین کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے جماعت علی شاہ نے کہا کہ اگر ہندوستان مون سون میں ڈیم سے ریت نکالتا ہے تو ہمیں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ مرالہ پر ہم ویسے بھی دس لاکھ کیوسک تک سیلابی پانی لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تشویش ہے کہ سردی میں خشک موسم میں پانی کا کنٹرول نہ ہو اور اس پر ہم نظر رکھیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اس منصوبے پر سندھ طاس کے مطابق ہی عمل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بگلیہار منصوبے میں غیرجانبدار ماہر کی تجویز کردہ تبدیلیاں لانے کے لیے ہندوستان کو مزید چھ ماہ کا عرصہ اور مزید دس ارب روپے درکار ہوں گے۔

سندھ طاس کمشنر نے کہا کہ غیر جانبدار ماہر کے کسی فیصلہ سے کوئی تنازع پیدا ہونے کی صورت میں ہر فریق ایک اور ثالث مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

اسی بارے میں
بگلیہار: تین اعتراضات تسلیم
12 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد