جرگے میں خود کش حملہ، 27 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے اپر اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 81 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تحصیل غلجو سے تقریباً دس کلومیٹر دور حدیزیی کے مقام پر علی خیل قبیلے کے ذیلی شاخ خانکی کے قبائلی مشران جرگے میں مصروف تھے کہ اس دوران بارود سے بھری ایک گاڑی جرگے کی جگہ پر ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گئی۔ ہنگو ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ہسپتال میں چھ لاشیں اور 65 زخمی لائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غلجو ہسپتال میں پانچ ناقابلِ شناخت لاشیں بھی پڑی ہیں۔ جرگے میں شرکت کے لیے آئے ایک قبائلی بزرگ قیمت خان اورکزئی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم اس وقت طالبان کو علاقے سے نکالنے کے لیے ایک لشکر تیار کر رہے تھے کہ عین اس وقت حملہ ہو گیا‘۔ زخمیوں کے ساتھ ہنگو ہسپتال آنے والے ایک عینی شاہد مالم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جرگے کے دوران ایک پک اپ تیزی سے آئی۔ ابھی لوگ خود کو سنبھال ہی رہے تھے کہ گاڑی ایک زوردار دھماکے سے پھٹ گئی‘۔ ان کے مطابق وہ زمین پر لیٹ گئے اور اس دوران انہیں بارود کے کالے بادلوں کے سوا کچھ نطر نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جب دھواں چھٹ گیا تو ہر طرف لوگوں کے کراہنے کی آوازیں آتی رہیں تو کہیں پر جسم کے لوتھڑے پڑے ہوئےتھے‘۔ ان کے بقول انہیں یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ کتنے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔’ہم نے لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانا شروع کیا مگر تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سب ہی جلدی اٹھانا بہت مشکل لگ رہا تھا‘۔ ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں اتنا زوردار دھماکہ اور بڑی تباہی نہیں دیکھی۔ میں نے کبھی انسانوں کو لوتھڑوں کی شکل میں دیکھنے کا تصور نہیں کیا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر مجھے خود پر بھی زندہ ہونے کا یقین نہیں آ رہا‘۔ تاحال کسی گروپ نے اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی قبائلی جرگہ پر خود کش حملے کیا گیا ہو۔ اس سے قبل دو مارچ کو بھی درہ آدم خیل میں بھی ایک جرگے پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقامی آبادی کی جانب سے حال ہی میں طالبان کے خلاف دوبارہ مسلح لشکر تشکیل دے کر کارروائیاں شروع کی گئی ہیں اور باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسے ہی ایک لشکر کی کارروائیوں کے دوران طالبان کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ تین دن قبل طالبان اور علی خیل قبیلے کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں طالبان نے علاقہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اورکزئی پاکستان کے سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے اور دوسرے علاقوں کے برعکس اس کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ہے۔ قبائلیوں کی جانب سے مسلح لشکر کی تشکیل اور ان کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں اور جنوبی اور شمالی وزیرستان میں بھی لشکر نے ماضی میں مقامی طالبان سے تعلق یا غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں سینکڑوں گھر جلا دیے تھے لیکن ان واقعات کے کچھ عرصہ بعد لشکر میں حصہ لینے والے اکثر قبائلی عمائدین قتل کر دیے گئے۔ | اسی بارے میں باجوڑ لشکر: مزید گھرنذرِ آتش06 October, 2008 | پاکستان قبائلی لشکر: طالبان گھر نذر آتش05 October, 2008 | پاکستان اسلام آباد، دیر میں پولیس پر حملے09 October, 2008 | پاکستان ’حملے میں چھ غیر ملکی بھی نشانہ بنے‘10 October, 2008 | پاکستان سوات، بمباری میں ہلاکتوں کا خدشہ09 October, 2008 | پاکستان میریئٹ حملے میں 54 ہلاک09 October, 2008 | پاکستان لاہور میں کم شدت کے تین دھماکے07 October, 2008 | پاکستان ’دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہوگا‘07 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||