ذیشان ظفر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، مانسہرہ |  |
| | ’پہلا سال تو صرف سروے کرنے میں گزر گیا۔ اس کے بعد سروے رپورٹس کئی اداروں سے ہوتی ہوئیں دوبارہ واپس آ جاتی ہیں لیکن ہوتا کچھ بھی نہیں ہے‘ |
آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ کی تین تحصیلوں میں تیرہ سو سرکاری سکول منہدم ہوئے جن میں سے ابھی تک صرف سترتعمیر ہوئے ہیں جبکہ بحالی کے لیے کام کرنے والے حکومتی ادارے ایرا نے ابھی تک ایک اسکول بھی تعمیر نہیں کیا ہے۔ ضلع مانسہرہ میں منہدم ہونے والے بارہ سو ستتر سکولوں میں سے تین سو انتالیس غیر سرکاری تنظیموں نے اور باقی ایرا نے تعمیر کرنے تھے جن میں سے غیر سرکاری تنظیموں نے ابھی تک ستر سکول محمکہ تعلیم کے حوالے کیے ہیں۔ دوسری طرف ایرا نے ایک سکول بھی محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کیا ہے۔ ضلع مانسہرہ کے ایجوکیشن آفیسر خان محمد نے سکولوں کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’پہلا سال تو صرف سروے کرنے میں گزر گیا۔ اس کے بعد طریقہ عمل لمبا اور پیچیدہ ہے کہ سروے رپورٹس کئی اداروں سے ہوتی ہوئیں دوبارہ ان کے پاس آ جاتی ہیں لیکن ہوتا کچھ بھی نہیں ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ بعض سکولوں کے ٹھیکے دو تین بار مختلف ٹھیکیداروں کو دیئے گئے لیکن پھر بھی تعیمراتی کام شروع نہیں ہو سکا۔ خان محمد کے مطابق ایرا نے تقریباً نو سو سکولوں کو تین سال میں تعمیر کرنا تھا لیکن دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ایک سکول بھی ان کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا محکمہ متعدد بار ایرا سے درخواست کر چکا ہے کہ سکولوں کی تعمیر میں تاخیر ہے تو کم از کم خیمے ہی مہیا کیے جائیں تا کہ بچوں کو سکول میں لایا تو جا سکے۔ زلزے میں سب سے متاثرہ بالاکوٹ میں تین سو سرکاری سکول منہدم ہوئے تھے جن میں سے صرف بارہ غیر سرکاری تنظیموں نے دوبارہ تعمیر کیے ہیں اور زیادہ تر سکول ابھی تک بغیر چھت اور خیمے کے کام کر رہے ہیں۔ بالاکوٹ کے ایک مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر افراسیاب نے بتایا ’تین سال گزرنے کے باوجود عمارت کیا حکومت کی طرف سے ایک خیمہ بھی نہیں ملا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے دو سال پہلے جو خیمہ ملا تھا وہ اب تار تار ہو چکا ہے۔ اور اس سال ایک سو بچوں کا داخلہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو سکا ہے۔‘
 | | | وہ بچے جنہیں داخلہ نہیں ملا وہ اب دوکانوں اور ہوٹلوں میں محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں: افراسیاب |
افرا سیاب کے مطابق سخت موسمی حالات میں سکول میں چھٹی کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سرکاری سکولوں میں زیادہ تر غریب خاندانوں کے بچے آتے ہیں جو نجی اسکولوں کی فیس برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ ’وہ بچے جنہیں داخلہ نہیں ملا وہ اب دوکانوں اور ہوٹلوں میں محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔‘ بالاکوٹ شہر کے قریبی گاؤں ست بنئی کے پرائمری سکول کے پاس تین سال سے ایک خیمہ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے طلباء کی تعداد پچاس سے کم ہو کر اب صرف پندرہ کے قریب رہ گئی ہے۔ بالاکوٹ کے ایک سماجی شخصیت منصب حسین نے الزام لگایا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ پوری ایک نسل تعیلم سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو بچے تین سال سے سکول نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے ہیں وہ دوبارہ اپنے سکولوں میں کب جائیں گے یہ کوئی نہیں بتا سکتا ہے۔ |