کوئٹہ میں پانچ مشتبہ افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد، اسلحہ اور کالعدم تنظیم کے اہم کارکن کے سامان سمیت گرفتار کیا ہے۔ کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس انوسٹیگیشن رحمت اللہ نیازی نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ مشتبہ افراد کوئٹہ میں اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں ملوث ایک گروہ میاں غنڈی کے علاقے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس مکان میں مشتبہ افراد رہائش پذیر تھے وہاں چھاپہ مارا کر پانچوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے پندرہ سے اٹھارہ کلوگرام دھماکہ خیز مواد، خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی ایک جیکٹ، راکٹ لانچر اور اس کے چھ گولے، چھ کلاشنکوف، دو دست بم اور دو سو سے زیادہ ڈیٹونیٹرز کے علاوہ گزشتہ دنوں اغوا ہونے والے ایک انجینیئر کی گاڑی کے کاغذات اور شناختی کارڈ اور چار دوسرے مغویوں کے شواہد ملے ہیں۔ رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے ایک کالعدم تنظیم کے رہنما کے اسلحے کے شواہد بھی ملے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہو سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عید کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور اہم مقامات پر پولیس کی نفری بڑھائی گئی ہے۔ یاد رہے کوئٹہ میں رمضان کے دوران تین دھماکے ہوئے ہیں جن میں ایک مدرسے میں، دوسرا فرنٹییر کور کی گاڑیوں کے پاس اور تیسرا سی ڈی مارکیٹ کے سامنے ہوا ہے۔ ان دھماکوں میں ایک بچی سمیت سات افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں بلوچستان سے تبادلے کی درخواستیں01 October, 2008 | پاکستان کوئٹہ: سی ڈی دکانوں پر بم دھماکہ28 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ: فرنٹیئر کور کا سرچ آپریشن27 September, 2008 | پاکستان ایف سی فائرنگ، خاتون ہلاک26 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، درجن بھرگرفتاریاں25 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ24 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، ایک اور زخمی ہلاک20 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک19 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||